BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک بھارت مذاکرات کا مستقبل
پاک بھارت
پاک بھارت مذاکرات سے فوری نتائج کی امید نہیں کی جا رہی
پاکستان اور بھارت نے طے کیا کہ زیادہ حساس معاملات پر بات چیت صرف خارجہ سیکریٹری کی سطح پر ہی ہو گی۔

ان معاملات میں کشمیراور امن و سلامتی کے باہمی امور شامل ہیں۔ جب کہ دیگر امور پر مختلف وزاتوں کے ماہرین بات چیت کریں گے۔

ان میں سیاچن گلیشیئر یا سری کریک یا دونوں ملکوں کے درمیان ہتھیاروں کی جاری دوڑ، اور دو طرفہ تجارت کے سے معاملات شامل ہیں۔

ماہرین کے مذاکرات کے بعد وزرائےخارجہ کے درمیان ملاقات ہو گی۔ جس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کیا پیش رفت ہوئی ہے اور آگے کیا کیا جانا چاہیے۔

اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس کے مطابق پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان ملاقات بھارت کے انتخابات کے فوراً بعد مئی یا جون میں ہو گی۔

جب کہ اس دوران وزارتی ماہرین کی ملاقاتیں جاری رہیں گی تاہم خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات کے بعد وزرائے خارجہ کی ملاقات اگست میں ہو گی۔

ظفر عباس کا کہنا ہے کہ اب تک یہ محسوس ہوتا ہے فریقین اہم مسائل پر زیادہ بات چیت سے گریز کر رہے ہیں۔ کچھ تجاویز کا تبادلہ ضرور ہوا ہے اور باقاعدہ بات چیت کی جگہ کوشش کی گئی ہے کہ مذاکرات کو جامع بنانے کے طریقوں کو واضح شکل دی جائے اور کوشش کی جائے کہ کسی ایک وجہ سے بات چیت کے سلسلے میں کوئی رکاوٹ نہ پڑے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق ’شاید اسی لیے اس موقع پر ایجنڈا طے کیا گیا ہے اور بات چیت کی سطح پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے‘۔

کہا جا رہا ہے کہ یقینی طور پر کشمیر کا مسئلہ اہم ہے اور اس لیے اس پر خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پر بات چیت ہو گی تاہم اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے اور تجاویز کیا ہیں، اس بارے میں دونوں طرف سے کچھ نہیں کہا جا رہا اور تاثر یہ ہے کہ فوری طور پر نہ تو کوئی نتیجہ سامنے آنے والا ہے اور نہ ہی اس کی توقع کی جا رہی ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق پاکستان نے بھارت کو تجویز دی ہے جس میں اشارتاً کہا گیا ہے کہ نہ صرف جوہری ہتھیاروں میں کمی کی جائے بلکہ روایتی افواج کی تعداد بھی کم کی جائے اور ایک توازن پیدا کیا جائے۔

بھارت کی طرف سے ابھی اس تجویز کا کوئی جواب نہیں دیا گیا تاہم دونوں جانب سے اور خاص طور پر پاکستان کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے کہ ان عوامل کو خارج کیا جائے جن کی وجہ سے ماضی میں جنگیں ہوئیں اور کشیدگی رہی۔

ظفر عباس کے مطابق اگر اس پر کوئی معاہدہ ہو جاتا ہے تو یہ ایک بہت بڑی پیش رفت ہو گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد