BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 February, 2004, 13:10 GMT 18:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان، بھارت مذاکرات کا آغاز

بھارتی وفد
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر سمیت دوسرے متنازعہ معاملات پر پیر کے روز سے اسلام آباد میں دو طرفہ مذاکرات شروع ہو رہے ہیں۔ مذاکرات تین روز تک جاری رہیں گے۔

تین سال قبل آگرہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد دونوں ملکوں کے مابین امن مذاکرات کا یہ پہلا دور ہے۔

ان جامع مذاکرات کے لئے بھارتی وفد گزشتہ روز پاکستان پہنچا۔

بھارتی وزارت خارجہ کے جوائنٹ سیکرٹری اورن سنگھ کی سربراہی میں آنے والے وفد میں انڈر سیکرٹری دیپک متل بھی شامل ہیں۔

یہ وفد سڑک کے راستے واہگہ سے پاکستان میں داخل ہوا تو بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر ٹی سی اے راگوں نے اس کا استقبال کیا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ بھارتی وفد جامع مذاکرات کے لئے پاکستان پہنچ گیا اور پیر کی صبح مذاکرات شروع ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ پیر سے منگل تک دو روز جوائنٹ سیکرٹریز ی سطح پر مذاکرات ہوں گے اور بدھ اٹھارہ فروری کو خارجہ سیکرٹریز کی سطح پر مذاکرات ہونگے۔

بھارتی سیکرٹری خارجہ ششانک بھی منگل کی شام پاکستان پہنچیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں مسعود خان نے کہا کہ پاکستان کے وفد کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل برائے جنوبی ایشیائی امور جلیل عباس جیلانی کریں گے۔

واضع رہے کہ جلیل عباس جیلانی بھارت میں پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر بھی رہ چکے ہیں اور انہیں بھارت بدر بھی کیا گیا تھا۔

گزشتہ ماہ جنوری کے پہلے ہفتے میں سارک سربراہی کانفرنس کے موقع پر بھارتی وزیراعظم اٹل بھاری واجپئی اور صدر جنرل مشرف میں ہونے والی ملاقات کے دوران کشمیر سمیت تمام متنازعہ امور پر فروری میں جامع مذاکرات کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

مذاکرات کی کوریج کیلئے بھارتی سرکاری ٹی وی دور درشن کے علاوہ بھارتی ذرائع ابلاغ کے درجن بھر نمائندگان بھی بھارت سے اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کیلئے تمام انتظامات مکمل ہیں اور توقع ہے کہ یہ مذاکرات معنی خیز ہوں گے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ میں ہونے والے مذاکرات کیلئے حکومت نے حفاظتی انتظامات بھی سخت کردیئے ہیں جن پر بھارتی ہائی کمیشن نے بھی اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بات چیت میں دونوں ممالک کے درمیان جامع مذاکرات کے حوالے سے ایجنڈا مرتب کیا جائے گا کہ کن معاملات پر کس سطح پر کہاں اور کب مذاکرات ہوں۔

سہ روزہ مذاکرات کے آخری دن یعنی بدھ اٹھارہ فروری کو مشترکہ اعلامیہ بھی جاری ہوگا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد