مسئلہ کشمیر پر مذاکرات جون میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور ہندوستان کے حکام ایک ایسے روڈ میپ پر متفق ہوگئے ہیں جس کے تحت کشمیر سمیت دیگر امور پر بات چیت کا سلسلہ مئی اور جون کے مہینے سے شروع ہوگا۔ اس سلسلے میں پہلے دونوں ملکوں کے سیکریٹری خارجہ ملاقات کریں گے اور پھر اگست کے مہینے میں دونوں وزرائے خارجہ کی ملاقات ہوگی۔ یہ بات بدھ کے روز اسلام آباد میں دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان تین روزہ مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ بیان میں سامنے آئی۔ اس موقعے پر ہندوستانی سیکریٹری خارجہ مسٹر ششانک نے کہا کہ مذکرات کا عمل نیک نیتی سے شروع کیا جا رہا ہے اور بہت سی مثبت پیش رفت ہورہی ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے مندوبین مسئلہ کشمیر پر جون میں مذاکرات کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے وزراء خارجہ جولائی میں بھی ملاقات کریں گے۔
صدر مشرف نے یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کے حوالے سے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی سالانہ علماء مشائخ کانفرنس سے خطاب کے دوران دیا۔ اسلام آباد میں بدھ کو پاکستان اور ہندوستان کے مابین تین روزہ مذاکرات کے آخری دن خارجہ سیکٹریوں کے درمیان بات چیت ہو ئی اور گزشتہ دو روز کے دوران مذاکرات میں جو سفارشات مرتب کی گئی ان پر حتمی فیصلے کا اعلان کیا گیا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بات چیت میں امن کے عمل کے ایک منظم ٹائم ٹیبل کی رسمی منظوری بھی دی جائے گی۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ بدھ کے مذاکرات کا مقصد آئندہ مذاکرات کی شکل مرتب کرنا اور ایجنڈہ طے کرنا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||