مذاکرات کا دوسرا دور آج شروع ہوگا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان تین روزہ مذاکرات کا دوسرا دور منگل کو اسلام آباد میں وقوع پذیر ہوگا جس میں مسئلہ کشمیر سمیت دیگر کئی معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔ منگل ہی کو بھارت کے وزیرِ خارجہ بھی پاکستان پہنچ رہے ہیں جہاںآج کے مذاکرات میں دونوں طرف سے نسبتاً اعلیٰ سطح کے اہلکار بات چیت میں شریک ہوں گے۔ گزشتہ روز ہونے والی گفتگو کے بعد فریقین نے ایک بہت ہی محتاط سا بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ بات چیت بڑے خشگوار ماحول میں ہوئی۔ بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے پہلے دور سے کوئی بھی کسی نتیجے کی امید کر رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ دفترِ خارجہ کے ترجمان مسعود خان کا کہنا تھا کہ فریقین نے بات چیت کے سلسلے کو مربوط طریقے سے آگے بڑھانے کے لئے ایجنڈے اور طریقۂ کار پر گفتگو کی ہے۔ ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دنوں ملکوں کے رہنماؤں نے جس طرح ان مذاکرات کی بنیاد رکھی ہے اس سے خاصی امید پیدا ہوئی ہے اور دنیا بھر سے ان مذاکرات کی حمایت کی جا رہی ہے۔ ظفر عباس کے مطابق بظاہر دنوں ملکوں نے یہ طے کیا ہے کہ مذاکرات کے اس سلسلے کی کڑی چھ سال قبل پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکٹریوں کے درمیان طے کئے جانے والے معاملات سے جوڑ دی جائے جب فریقین نے آٹھ بنیادی مسائل پر بات چیت کا فیصلہ کیا تھا۔ ان میں جموں اور کشمیر کا مسئلہ، اور امن و سلامتی کے معاملات سرِ فہرست تھے جبکہ دیگر مسائل میں سیاچن، وولر بیراج، سر کریک کے معاملات اور تجارت بڑھانے کے اقدامات شامل تھے۔ چونکہ دونوں ملکوں نے ان مذاکرات کے لئے جو فارمولا طے کیا ہے اس سے تمام معاملات پر بات چیت ہو سکتی ہے۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے اس دور سے کسی بڑے نتیجے کی امید نہیں کی جا سکتی اور اگر یہ طے ہو گیا کہ بات چیت کا سلسلہ ہر حال میں جاری رکھا جائے گا، تو اسے بھی ان مذاکرات کی ایک کامیابی ہی تصور کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||