BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مذاکرات کا پہلا دور ختم
پاکستان اور بھارت کے جھنڈے
بات چیت کا سلسلہ سات سال پہلے ہونےوالے مذاکرات سے ہی جوڑا جائے گا
پاکستان اور بھارت کے درمیان خارجہ امور کے جوائنٹ سیکریٹریز کے درمیان ہونے والا مذاکرات کا پہلا دور پیر کی شام اسلام آباد میں اختتام پذیر ہو گیا۔

پہلے دور کے اختتام پر دونوں ملکوں کے حکام کا خیال ہے کہ آئندہ دو روز میں ہونے والے مذاکرات کے دو ادوار میں تنازع کشیمر پر با معنی گفتگو ہو سکے گی۔

مذاکرات کے تیسرے اور آخری دور میں خارجہ سیکریٹریز کے درمیان بدھ کو ملاقات ہوگی۔

تین روزہ مذاکرات کے پہلے دور میں پاکستان کی وزارت ِ خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری جلیل عباس جیلانی نے اپنے بھارتی ہم منصب آرون کمار سنگھ سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔

مذاکرات کا پہلا دور شروع ہونے سے پہلے اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس نے اطلاع دی تھی کہ پیر کو دونوں ملکوں کے حکام بات چیت کا سلسلہ وہیں سے شروع کریں گے جہاں پر سات سال پہلے خارجہ سیکریٹریز کے درمیان اسلام آباد میں ہی ہونے والے مذاکرات میں ٹوٹا تھا۔

بات چیت کا سلسلہ دوبارہ سات سال پہلے ہونے والے مذاکرات سے شروع کرنے کا مقصد ایک تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔

ان تین روزہ مذاکرات میں دونوں ملکوں کے حکام جوہری میدان میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے ممکنہ اقدامات کا بھی تعین کریں گے۔

مبصرین بات چیت کے اس سلسلے کے بارے میں محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور وقت سے پہلے بڑی بڑی توقعات قائم نہیں کرنا چاہ رہے۔

تاہم ان کا خیال ہے کہ خارجہ سیکریٹریز کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں تنازعہ کشمیر کو بھی اٹھائے جانے کا امکان ہے۔

جوہری اسلحہ سے لیس دونوں پڑوسی ممالک کشمیر کے تنازعہ پر دو بار جنگ کر چکے ہیں۔

تین سال قبل بھارت کے شہر آگرہ میں دونوں ممالک کے درمیان بڑی امیدوں کے ساتھ شروع ہونے والے مذاکرات بدمزگی پر ختم ہوئے تھے۔

موجودہ بات چیت کا آغاز گزشتہ سال اپریل میں بھارت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی طرف سے دوستی کی پیش کش کے بعد ہوا تھا۔

بھارت کا وفد سڑک کے راستے واہگہ سے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔ وزارت خارجہ کے جوائنٹ سیکرٹری ارون کمار سنگھ کی سربراہی میں آنے والے وفد میں انڈر سیکرٹری دیپک متل بھی شامل ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے اس سے پہلے بی بی سی کو بتایا تھا کہ پیر سے منگل تک جوائنٹ سیکرٹریز کی سطح پر مذاکرات ہوں گے اور بدھ اٹھارہ فروری کو خارجہ سیکرٹریز کی سطح پر مذاکرات ہونگے۔

بھارتی سیکرٹری خارجہ ششانک بھی منگل کی شام پاکستان پہنچیں گے۔

مسعود خان نے کہا تھا کہ پاکستان کے وفد کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل برائے جنوبی ایشیائی امور جلیل عباس جیلانی کریں گے۔

واضع رہے کہ جلیل عباس جیلانی بھارت میں پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر بھی رہ چکے ہیں اور انہیں بھارت بدر بھی کیا گیا تھا۔

گزشتہ ماہ جنوری کے پہلے ہفتے میں سارک سربراہی کانفرنس کے موقع پر بھارتی وزیراعظم اٹل بھاری واجپئی اور صدر جنرل مشرف میں ہونے والی ملاقات کے دوران کشمیر سمیت تمام متنازعہ امور پر فروری میں جامع مذاکرات کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

مذاکرات کی کوریج کیلئے بھارتی سرکاری ٹی وی دور درشن کے علاوہ بھارتی ذرائع ابلاغ کے درجن بھر نمائندگان بھی بھارت سے اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔

سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بات چیت میں دونوں ممالک کے درمیان جامع مذاکرات کے حوالے سے ایجنڈا مرتب کیا جائے گا کہ کن معاملات پر کس سطح پر کہاں اور کب مذاکرات ہوں۔

سہ روزہ مذاکرات کے آخری دن یعنی بدھ اٹھارہ فروری کو مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد