| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’فوجیں ہٹانےکےلئے تیارہیں‘
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اگر ہندوستان اپنی فوجیں ہٹانے پر تیار ہوتا ہے تو پاکستان بھی ’کل ہی‘ فوجیں ہٹانا شروع کر دےگا۔ جنرل پرویز مشرف بی بی سی اردو اور ہندی کے مشترکہ ’ٹاکِنگ پوائنٹ‘ پروگرام میں سامعین کے سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان کشمیر کی آزادی کی بات کرتا ہے لیکن خود اس کی اپنی فوجیں کشمیر میں موجود ہیں تو پاکستان اپنی فوجوں کو کب ہٹائے گا؟ ’جنرل مشرف نے کہا کہ ہم تو فوجیں ہٹانے کے حق میں ہیں لیکن معاملہ یہ ہے کہ ہندوستان سے پوچھ لیں، ان کے سات لاکھ فوجی سرحد پر لگے ہوئے ہیں جب کہ ہمارے صرف پچاس ہزار ہیں۔ وہ اپنے سات لاکھ ہٹا لیں میں کل ہی اپنے فوجی ہٹانے کے لیے تیار ہوں۔ وہ تیار ہیں تو میں بھی تیار ہوں، کل ہی شروع کر دیتے ہیں۔‘ جرمنی سے کیے جانے والے اس سوال کے جواب میں کہ ’ پاکستان ان دہشت گردوں کو ہندوستان کے حوالے کیوں نہیں کر دیتا جن کی فہرست ہندوستان پاکستان کو دے چکا ہے؟‘ جنرل مشرف نے کہا کہ : آپ ان فہرستوں کے چکر میں نہ پڑیں بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ ماضی کی بات ہی چھوڑ دیں ورنہ تو میں انہیں پچاس آدمی کی فہرست بھجوا دیتا ہوں کیونکہ ہمارے پاس ایسی مصدقہ اطلاعات ہیں جن کے مطابق ہندوستان کی خفیہ ایجنسیوں نے پاکستان میں دہشت گردی کرائی ہے۔ ایک فہرست تو مجھے ایسی دی گئی جس میں اڈوانی صاحب کا نام بھی تھا تو کیا یہ فہرست بھی میں انہیں بھجوا دوں؟ میں یہ کہتا ہوں کہ ان باتوں کا حاصل کچھ نہیں ہے۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ حال ہی میں حال ہی میں افغانستان کے صدر نے یہ کہا ہے کہ سابق طالبان سربراہ ملا عمر کو کوئٹہ میں دیکھا گیا تو کیا آپ کے سارے ہمسائے جھوٹ بولتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ’کرزئی نے کہا ہے تو انہوں نے خود کوئی کارروائی کیوں نہیں کی یا اسی وقت ہمیں کیوں نہیں بتا دیا تاکہ ہم کارروائی کر سکتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ملا عمر کو کوئٹہ کی کسی مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا گیا۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے ملک کا خیال رکھیں جہاں تک ہمارا تعلق ہے دہشت گردی کے خلاف ہم نے سب سے مؤثر کارروائی کی ہے اور اب تک چھ سو پکڑ کر مار بھی دیے ہیں، انہوں نے کیا کیا ہے؟‘ پاکستان کے شہر نوشہرو فیروز کے منور ملک نے پوچھا کہ ’آپ نے ایک آئینی حکومت ختم کر کے حکومت پر قبضہ کر لیا اور اس کے بعد خود صدر بھی بن بیٹھے اب اگر آپ کے خلاف ملک کے آئین اور قوانین کے مطابق مقدمہ ہو جائے جیسے کہ بھٹو کے خلاف ہوا تو آپ کیا کریں گے؟‘ صدر جنرل مشرف نے کہا کہ ’وہ حالات مختلف تھے جب ہم نے ملک کا انتظام سنبھالا ملک کو ایک ناکام ملک قرار دیا جانے والا تھا اب صورتِ حال تبدیل ہو چکی ہے۔ ورنہ ملک نہ صرف ناکام ہوتا بلکہ دہشت گرد بھی قراردیا جا چکا ہوتا۔ رہی مقدمہ درج ہونے کی بات تو میں آپ جیسے لوگوں سے نہیں ڈرتا، میں صرف خدا سے ڈرتا ہوں اور وہ بہتر جانتا ہے کہ کس نے کیا کیا ہے۔‘ اس سوال کے جواب میں کہ کیا پاکستان میں کبھی کوئی ایسے انتخابات نہیں ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں ملک میں جمہوریت قائم ہوئی ہو؟ جنرل مشرف نے کہا کہ ملک میں صحیح جمہوریت کبھی نہیں چلی۔
دبئی سے کیے جانے والے عزیز انصاری کے اس سوال کے جواب میں کہ آپ اب تک ملک کے مقبول ترین حکمراں ہیں لیکن آپ کی ایسی کیا مجبوری ہے کہ آپ پھر ان لوگوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں جو بد عنوان ہیں یا جنہیں ماضی میں بد عنوان قرار دیا گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ’ آپ کو خود بھی سوچنا چاہیے کہ میں ایسے لوگوں کو کیوں ساتھ لے کر چل رہا ہوں۔ کیونکہ اس وقت جو لوگ میرے ساتھ ہیں ان میں سے ایک بھی غیر منتخب نہیں ہے اور ان لوگوں کو پاکستان کے لوگوں نے منتخب کیا ہے۔ آپ منتخب کرنے والوں سے پوچھیں کہ انہوں نے ان لوگوں کو کیوں منتخب کیا ہے جو بدعنوان ہیں۔ پھر اس وقت ملک میں ایک مخلوط حکومت ہے آخر اس کی ضرورت کیوں پیش آئی اس کا فیصلہ لوگوں نے کیا ہے میں نے نہیں۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||