BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 January, 2004, 19:05 GMT 00:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف واجپئی ملاقات: کیوں اور کیسے؟

ملاقات
اس ملاقات کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا ہونا طے تھا

بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی اور پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے درمیان ملاقات اور ملاقات میں ہونے والی گفت و شنید کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں کیونکہ اسلام آباد میں بھارتی وفد کے ذرائع اور حکومت پاکستان کے ترجمان اس ملاقات کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ کہنے کے لیے تیار نہیں کہ ملاقات بہت خوشگوار ماحول میں ہوئی اور اس میں باہمی دلچسپی کے تمام امور پر بات کی گئی۔

اس ملاقات کو ڈرامائی بھی کہا جا رہا ہے کیونکہ بھارتی ذرائع ہی نہیں خود بھارتی وزیراعظم تک کے حوالے سے، اس ملاقات کے بارے میں یہ کہا جا رہا تھا کہ پاکستانی قیادت سے اوّل تو ایسی ملاقات کا امکان نہیں جس میں دوطرفہ مذاکرت ہوں اور اگر ہوئی بھی تو یہ ملاقات بھارتی اور پاکستانی وزرائے اعظم کے درمیان ہو گی۔

خود بھارتی وزیراعظم نے واضح طور پر کہا تھا کہ ’پاکستانی ہم منصب ملاقات ہو سکتی ہے۔‘

لیکن اس کے ایک ہی روز بعد واجپئی نے پاکستان کے لیے روانگی سے قبل دونوں ملکوں کے ذرائع ابلاغ کو چوکنا کرنے والا یہ بیان دیا کے صدر مشرف پاکستان کے اہم ترین رہنما ہیں۔تاہم پاکستان پہنچنے اور پاکستان کے واحد سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے جانے والے انٹرویو تک سے یہ بات واضح نہیں تھی کہ واجپئی مشرف سے ملاقات کریں گے یا نہیں، حالانکہ اس انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ ’صدر مشرف صاحب سے ملاقات ہو سکتی ہے۔‘

لیکن سوموار کو نہ صرف یہ ملاقات ہوئی بلکہ بند کمرے میں اور مسلسل ایک گھنٹے تک اور صرف مشرف اور واجپیئی کے درمیان ہوئی۔

بھارتی وزیر خارجہ یشونت سنہا نے اس بارے میں صرف اتنا کہا ہے ’ملاقات تسلی بخش تھی اور اس میں بہت سے امور پر بات کی گئی۔‘

اس ملاقات کا سب سے اہم پہلو اس کا ہونا ہے۔ اور اسلام آباد سے بی بی سی کی نامہ نگار جل میک گیورنگ اس ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ ملاقات میں بین الاقوامی اور خاص طور پر واشنگٹن کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے صدر مشرف پر یہ دباؤ ڈالا کہ وہ بھارت کے بقول ’بین السرحدی دہشت گردی‘ حمایت ختم کرنے کے لیے مزید کچھ کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کے باوجود دونوں جانب سے اب تک ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا جس سے یہ اندازہ ہو سکتا ہو کہ دونوں کے موقف میں کوئی بنیادی تبدیلی رونما ہوئی ہے ہر چند کہ نئی خوشگوری کے نئی لہر دونوں جانب کے لہجوں پر ضرور اثر انداز ہوئی ہے۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار سنجیو سری واستوو کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کے بعد بھی دونوں ملکوں کی قیادت کو آئندہ ملاقات اور امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے دشوار مراحل سے گزرنا ہو گا۔

بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس نے اس ملاقات کے بارے میں بتایا ہے کہ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر برجیش مشرا بھارتی وزیراعظم کی پاکستان آمد سے ایک روز قبل ہی پاکستان پہنچ گئے تھے اور پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کر رہے تھے۔

ان ملاقاتوں کا مقصد واجپئی اور مشرف کے درمیان ملاقات کے لیے زمین ہموار کرنا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اسی دوران انہوں نے پاکستان کے اہم ترین خفیہ اداراے آئی ایس آئی کے سربراہ سے بھی ملاقات کی۔ اور ظفر عباس کا کہنا ہے کہ ’اس ملاقات کا ہونا عین ممکن ہے۔‘

ملاقات علیحدگی میں اور ایک گھنٹے تک ہوئی

آئی ایس آئی بھارت کے اہم ترین خفیہ ادارے را کی ہم منصب تنظیم ہے اور دونوں ملک ان تنظیموں پر ایک دوسرے کے ملک میں دہشت گردی کرانے کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔ اس تناظر میں بھارتی سلامتی کے مشیر برجیش مشرا کی آئی ایس آئی کے سربراہ سے مبینہ ملاقات خاصی معنی خیز ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد