| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا اعلان
پاکستان کے وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے پاکستان اور بھارت میں متنازعہ علاقے کو تقسیم کرنے والی کنٹرول لائن پر تعینات مسلح افواج کو حکم دیا ہے کہ عید کے دن سے مکمل جنگ بندی کا مظاہرہ کریں۔ وزیراعظم جمالی نے یہ اعلان اپنی حکومت کے پہلے سال کی تکمیل پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔ وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی نے کہا کہ وہ بھارت سے امید کرتے ہیں کہ اس اعلان کا مثبت جواب دے گا کیونکہ بھارت کے کسی مثبت جواب کے بغیر ان کا اقدام ادھورا ہوگا۔ پاکستان میں عیدالفطر چھبیس نومبر کو متوقع ہے اور اس دن سے پاکستانی افواج کو مکمل طور پر فائر بندی کا حکم دے دیا گیا ہے۔ وزیراعظم میرظفراللہ جمالی نے یہ عندیہ بھی دیا کہ وہ کھوکھرا پار براستہ مونا باؤ کی سرحد کھولنے کے لیے بھی بھارت سے مذاکرات کرنے پر تیار ہیں۔ یہ سرحد سن انیس سو پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ کے بعد سے اب تک بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مظفر آباد اور سری نگر کے درمیان بس سروس شروع کرنے کے لئے بھی تیار ہے تاہم انہوں نے کہا وہ یہ وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ پاکستان جموں و کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق متنازعہ علاقہ ہی سمجھتا ہے اس لئے کنٹرول لائن کو عارضی لائن تصور کرتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بس سروس شروع کرنے کے متعلق امور اور طریقۂ کار طے کرنے کے لئے بھارت کو مذاکرات کی دعوت دیتا ہے اور میزبانی کے لئے بھی تیار ہے۔ وزیراعظم جمالی نے کہا کہ پاکستان، لاہور اور امرتسر بس سروس شروع کرنے، ویزوں کے اجراء میں سہولت دینے اور دونوں ممالک کے ہائی کمیشن ویزا کیمپ شروع کرنے کے بارے میں بھی مثبت جواب دےگا۔ انہوں نہ کہا کہ پاکستان فضائی رابطوں کی بحالی کی بھی حمایت کرتا ہے اور اس ضمن میں سول ایوی ایشن کے مذاکرات اہم ہیں اور وہ امید کرتے ہیں کہ مذاکرات کے دوران لاہور سے دہلی اور کراچی سے ممبئی اور دہلی کے درمیان فضائی رابطے بحال ہوجائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے اس ضمن میں نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے کہ پینسٹھ برس سے زائد عمر کے شہری پیدل واہگہ بارڈر عبور کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، کراچی اور ممبئی کے درمیان فیری سروس یعنی بحری راستے کے ذریعے سفر کے آغاز کے لئے بات چیت پر بھی تیار ہے۔ وزیراعظم جمالی نے تجویز پیش کی کہ پاکستان اور بھارت میں داخلہ امور سے متعلق وزارتیں ایک دوسرے کی جیلوں میں قید دونوں ممالک کے باشندوں کے مسائل حل کرنے کا بھی طریقہ تلاش کریں اور پاکستان کے جو قیدی سزا بھگت چکے ہیں اگر بھارت انہیں پاکستان میں عید سے قبل رہا کردے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ یہ گزارش بھی کرنا چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک تمام حل طلب مسائل ذرائع ابلاغ کی بجائے سیاسی اور سفارتی ذرائع کے ذریعے حل کریں۔ وزیراعظم جمالی کی سات صفحات پر مشتمل تقریر محکمۂ اطلاعات نے تقریر شروع ہونے کے بعد جاری کی جس میں اقتصادی کارکردگی کا بھی ذکر ہے اور بعض حاصل کردہ اہداف کے اعداد و شمار بھی بتائے گئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار وزیراعظم کے قوم سے خطاب سے ایک دن قبل ہی وفاقی وزیرخزانہ شوکت عزیز پریس کانفرنس میں بیان کرچکے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ پہلا سال مکمل ہوا اور یہ ثابت ہوا کہ جن اندیشوں اور وسوسوں کا اظہار کیا گیا تھا ان کی کوئی بنیاد نہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ملک سے لوٹ کھسوٹ اور انتقامی سیاست ختم کی اور شرافت اور خدمت کی سیاست کی بنیاد ڈالی ہے۔ وزیراعظم نے پرتشدد سیاست اور مذہبی جماعتوں کے رویے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جہاد کی فضلیت سے انکار نہیں لیکن ان عناصر سے سوال ہے کہ انہوں نے کبھی غربت، جہالت، بیماری اور معاشرتی ناہمواری کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے؟ میر ظفر اللہ جمالی نے کہا کہ وہ انتقامی سیاست کے خلاف ہیں لیکن اس کا یہ مقصد نہیں کہ لوگوں کو قانون توڑنے اور ملک کے انتہائی اہم اداروں پر کیچڑ اچھالنے کا لائیسنس مل گیا ہے۔ دریں اثناء وزیراعظم جمالی نے پاکستان کے ایک انگریزی روزنامہ ’ڈان‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ترقی پذیر ممالک میں مسلح افواج ہی طاقتور ہوتی ہیں مگر ایک ایسا توازن قائم ہونا چاہیے جس میں افضلیت و اولیت منتخب قیادت ہی کو حاصل ہو۔ وزیراعظم جمالی نے یہ بھی کہا کہ اتحاد برائے بحالئ جمہوریت (اے آر ڈی) کو وہ پارلیمانی حزب اختلاف نہیں سمجھتے کیونکہ اس میں شامل جماعتوں نے اس اتحاد کے ایک نشان کے تحت انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا۔ جنرل مشرف کے آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے کے بعد حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) کا سربراہ بن جانے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم جمالی نے کہا کہ جنرل مشرف کا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔ تاہم ان پر کوئی پابندی بھی نہیں ہوگی کہ وہ ایسا نہیں کرسکتے۔ متعدد سرکاری عہدوں پر فوجیوں کی تعیناتی کے بارے میں وزیراعظم جمالی نے کہا کہ ان عہدوں پر تعینات فوجیوں کی تعداد بتدریج کم کی جارہی ہے۔ انہوں نہ کہا کہ جب اختیارات فوجی حکومت سے منتخب حکومت کو منتقل ہورہے ہوں تو وہاں لچک کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ متحدہ مجلس عمل کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حکومت کسی حل کے قریب پہنچ گئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||