پاک و ہند، نئی تاریخ لکھی جائے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے دانشوروں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کی تاریخ کو مسخ کی گیا ہے جسے نئے سرے سے مرتب کیا جانا چاہیے۔ ہندوستان کی ادب، فلم اور تاریح سے تعلق رکھنے والی شخصیات آج پاکستان کے ایک ہفتے کے دورے کے بعد واپس ہندوستان روانہ ہوئیں اور انھوں نے لاہور میں پریس کانفرنس کی۔ ان میں سماجی ادارے انہد کی سربراہ شبنم ہاشمی ، کیرالہ یونورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر کے این پانیکر ، ڈاکٹر ہریش مندر، فلم اداکار نندیتا داس، فلموں کے ڈائریکٹر سومیا سین اور فلم ساز گوہر رضا شامل تھے۔ ان سب نے اپنی مشترکہ پریس کانفرنس میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں دونوں ملکوں کی حکومتوں کی ایما پر اپنی فتوحات ثابت کرنے کے لیے تاریخ کو غلط رنگ دے کر تاریخ کو مسخ کیاگیا ہے اس لیے اس علاقہ کی تاریخ کو نئے سرے سے لکھا جائے جس کے لیے ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے غیرجانبدار مورخین کا پینل بنایا جائے جو غیر متنازعہ تاریخ لکھ کر محبت کو فروغ دے۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے پاکستان کے مختلف شہروں میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور ان کا خیال ہے کہ دونوں ملکوں کے عوام آپس میں مل بیٹھ کر اپنے مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں اور دوستی کی مضبوط راہیں تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے عوام آپس کی نفرتیں بھلا کر ایک دوسرے کے قریب آنے کے لیے اقدامات کریں۔ انھوں نے کہا کہ وہ بھارت جا کر لبرل سوچ کےلوگوں کو متحد کریں گے پاکستان کے لبرل دانشوروں کو بھی وہ یہی کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے ہاں ایسا کریں۔ انھوں نے کہا کہ غیرجانبدار ماہرین غیر حکومتی سطح پر سر جوڑ کر بیٹھیں تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان امن کی راہیں او دوستی کے رشتے پائیدار اور مضبوط بنانے میں مدد مل سکے۔
انھوں نے یہ تجویز بھی دی کہ پاکستان اور بھارت کے متوسط طبقہ اور نچلے طبقے کے بچوں کو ایک دوسرے کے ملکوں کے شہروں ، دیہاتوں اور گلی کوچوں میں کرکٹ کھیلنی چاہیے اور کرکٹ برائے امن کا نعرہ بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں نفرت بڑھانے میں دونوں طرف کے میڈیا کا بڑا ہاتھ ہے اور اب بھی نفرتیں بڑھانے یا کم کرنے میں میڈیا ہی منفی یا مثبت نتائج پیدا کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کا ایک مشترکہ ٹی وی چینل قائم کیا جائے اور دونوں ملک مل کر فلمیں بنائیں اور ٹی وی ڈرامے تیار کریں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان دونوں ملک اب اپنی جگہ ایک حقیقت ہیں کچھ ہندوستانی رہنماؤں کی طرف سے دوبارہ ملاپ کی باتیں سیاسی حمایت کے لیے ہیں لیکن دونوں ملک الگ الگ ازاد حیثیت سے قائم ہوچکے ہیں اور اس حقیقت کا ادراک کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ نفرت کی بنیاد پر فلمیں بنانے والوں کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی اور امن کا پیغام پھیلانا ہوگا۔ ہندوستانی ادارکار نندیتا داس نے کہا کہ وہ مر جائیں گی لیکن پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے والی کسی ہندوستانی فلم میں کام نہیں کریں گی۔ انھوں نے کہا کہ لکیروں کی وجہ سے جو کشیدگیاں پیدا ہوئی ہیں وہ دور کی جانی چاہئیں اور ا س کی وجہ سے لڑنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ نے برلن کی دیوار گرا کر ہمارے لیے ایک مثال قائم کی ہے کہ ہمیں محبت سے رہنا چاہیے۔ نندیتا داس نے کہا کہ وہ محبت پر مبنی ایک فلم کی کہانی لکھ رہی ہیں جس میں وہ خود اداکاری کریں گی۔ انھوں نے کہا کہ ان کے وفد نے تجویز دی ہے جس پر وہ بھارت جا کر کام کریں گی کہ مشترکہ ڈراموں اور امن کے گیت پر مبنی سی ڈیز تیار کرکے دونوں ملکوں کے عوام کو دکھائی جائیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||