BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 January, 2004, 15:27 GMT 20:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آگرہ کے تار اسلام آباد میں جڑ گۓ

’تاریخ ساز پیش رفت ہے‘

صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جو تار آگرہ میں ٹوٹے تھے وہ اسلام آباد میں جڑ گۓ ہیں۔ انھوں نے یہ بات اسلام آباد میں ایک پریش کانفرنس کے دوران پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں کہی۔

صدر مشرف نے پریس کانفرنس میں تقریبا وہی باتیں کیں جو اس سے پہلے دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے پریس کو بتائیں تھیں۔ تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا بدل رہی ہے اور دونوں ملکوں کے عوام کی آرزو ہے کہ امن قائم ہو جسے سیاستدانوں کو سمجھنا چاہیے۔

انھوں نے کہا فضا آگرہ سے بالکل مختلف ہے اور دنیا میں اس وقت سے اب تک بہت کچھ ہوچکا ہے۔ انھوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ آگرہ کے بعد وہ مایوسی محسوس کررہے تھے مگر اب پر مسرت ہیں۔

صدر جنرل مشرف نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دونوں ملکوں کے لوگ امن اور ہم آہنگی کے خواہاں ہیں اور اس بارے میں کوئی شک نہیں، اب سیاسی قیادت کو اس موقع پر سامنے آنا ہوگا۔

صدر مشرف نے کہا کہ دونوں ملکو ں کے درمیان جو تعلقات کی بحالی کا عمل آگے بڑھا ہے اس کے پیچھے کوئی اور نہیں بلکہ یہ بات ہے کہ دنیا میں ایک نئے احساس نے جنم لیا ہے کہ آگے بڑھنے کے لیے امن اور جغرافیائی معیشت کا راستہ ہے اور یہ اساس ہندوستان اور پاکستان کے لوگوں میں بڑھ گیا ہے۔

صدر مشرف نے کہا کہ منگل کی صبح بھارتی کے وزیراعظم واجپائی نے ان سے ٹیلی فون پر بات کی جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ایک مشترکہ بیان پر مہر ثبت ہوئی۔

صدر مشرف نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ٹیلی فون پر انھوں نے وزیراعظم واجپائی کی اچھی صحت کے لیے خواہش کا اظہار کیا اور واجپائی نے ان کی شدت پسندوں سے سلامتی کے لیے خواہش کا اظہار کیا۔

صدر مشرف نے کہا کہ ’آج کے دن نئی تاریخ بنائی گئی ہے‘ اور دونوں ملکوں نے تعلقات کو بہتر بنانے کے عمل کو آگے بڑھانے پر بات چیت کرنے اور دو طرفہ بات چیت کو کسی نتیجہ پر پہنچانے کے لیے ایک فریم ورک پر رضامند ہوگئے ہیں۔

صدر مشرف نے مشترکہ بیان کی وضاحت میں کہا کہ ا س میں تین چیزوں کے درمیان تعلق کو تسلیم کیا گیا ہے جس میں سے ایک بات اعتماد کی بحالی کے اقدامات کو آگے لے جانا ہے، دوسرے کشمیر سمیت تمام معاملات پر دو طرفہ بات چیت شروع کرنا اور اسے آگے بڑھانا ہے، اور تیسرے پاکستان کا یہ عزم کہ اس کے زیر انتظام علاقوں سے کسی دوسرے ملک میں دہشت گردی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے ہندوستان سے بات چیت کےمعاملہ پر سب کو اعتماد میں لیا ہے اور کشمیری رہنماؤں سے بھی بات چیت کی ہے اور جوں جوں ہندوستان سے دو طرفہ بات چیت آگے بڑھے گی کشمیریوں کو بھی اس میں شامل کیا جائے گا۔

صدر مشرف نے کہا کہ یہ محض آغاز ہے اور اچھا آغاز ہے، ’اب ہمیں آگے بڑھنا ہے اور پاکستان اس میں اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کرے گا‘۔

انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ بیان جاری ہونے پر دونوں کی طرف سے دکھائی جانے والی لچک کی تعریف کی اور ہندوستان کے وزیرخارجہ اور سلامتی امور کے ماہر برجیش مشرا اور پاکستان کے وزیر خارجہ، دفتر خارجہ اور اپنے چیف آف اسٹاف جنرل حامد جاوید اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کے چیئرمین طارق عزیز کی اس سلسلہ میں کی گئی کوششوں کو سراہا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد