| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان بامعنی مذاکرات چاہتا ہے
پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے کہا ہےکہ پاکستان بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام مسائل پر بامعنی اور بامقصد مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔ بھارت کے نائب وزیر خارجہ ایل کے اڈوانی کی طرف سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کے لیے جو اقدامات تجویز کئے گئے ہیں ان پر بی بی سی ہندی سروس سے ایک انٹرویو میں تبصرہ کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ اس کا جواب وزیر خارجہ کی سیپین سے واپسی پر دے دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے پاکستان کا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر کرنے میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے اور اس کے حل کے بغیر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو شامل کیے بغیر پاکستان بھارت سے بات چیت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں بھارت کی طرف سے تازہ تجاویز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت الفاظ کا سہارا لے کر چالاکی اور مکاری دکھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی پوری کوشش کرے گا کہ بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات بہتر ہو جائیں اور وہ اچھے ہمسایوں کی طرح رہ سکیں۔ انہوں نے کہا دونوں ملکوں میں بنیادی مسئلہ کشمیر ہے جس کی وجہ سے دونوں ملکوں میں تین جنگیں ہو چکی ہیں۔ شیخ رشید نے کہا کہ پاکستان مذاکرات کی خیرات اور بھیک نہیں مانگے گا۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ پاکستان ریل کا رابطہ بحال کرنے کے لیے تیار ہے۔ ’ہم تو ریل کے ڈبے رنگ و روغن کرکے تیار بیٹھیں ہیں۔‘ انہوں نے کہا ہوائی رابطہ تو بھارت نے خود ہی منقطع کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تجارت اور چھوٹے چھوٹے مسائل پر بات کر کے تعلقات بہتر نہیں ہوں گے اور اگر بات چیت مسئلہ کشمیر کے بغیر ہو تو اسکا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ٹریک ٹو‘ یا ’ پیپل ٹو پیپل‘ رابطے بڑھا کر مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ انہوں نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ معاملات کو طے کرنے کے بجائے الجھانا چاہتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||