 |  ’اسامہ کا سراغ کھو چکے ہیں۔‘ |
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ملک کی سیکورٹی فورسز اسامہ بن لادن کا سراغ اب کھو چکی ہیں۔ بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں جنرل مشرف نے کہا کہ آٹھ سے دس ماہ پہلے تک پاکستان کی سیکورٹی فورسز کو اسامہ بن لادن کے ممکنہ ٹھکانے کے بارے میں کچھ اندازہ تھا اور اس پر جال کو تنگ بھی کیا جارہا تھا لیکن وہ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگیا اور اب اس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے۔ لیکن ملک کے قبائیلی علاقوں میں القاعدہ کےسے مبینہ طور پر تعلق رکھنے والے مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف کیے جانے والے آپریشن کے بارے میں جنرل مشرف نے کہا کہ فوجی کارروائی بہت کامیاب ثابت ہوئی ہے اور اس کے نتیجے میں ’ان (مشتبہ دہشت گردوں) کے کیمپس تباہ کردئیے گئے ہیں اور وہ پہاڑوں میں تتر بتر ہوگئے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ان عناصر کی مقامی قیادت کوئی نہیں ہے اور ان کی رہنمائی القاعدہ ہی کرتی ہے۔ عبداللہ محسود کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’ہم یہ تصدیق کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ آیا وہ زندہ ہے یا مردہ کیونکہ ہمیں ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ وہ شائد ہلاک ہوگیا ہو۔‘ بلوچستان میں جاری کشیدگی کے بارے میں جنرل مشرف نے کہا کہ ’یہ مسلہء اتنا سنگین نہیں اور جو لوگ بلوچستان کو مشرقی پاکستان جیسا مسلہ کہتے ہیں انہیں حقائق معلوم نہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس کے پیچھے وہ ان لوگوں کا ہاتھ ہے جو پاکستان کو خوشحال نہیں دیکھنا چاہتے۔ (جنرل پرویز مشرف کے اس انٹرویو کا مفصل حصہ آپ منگل پندرہ مارچ کو سیربین میں سن سکتے ہیں۔) |