 |  جنرل مشرف کی ویب سائٹ کا صفحۂ اول |
صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک ذاتی ویب سائٹ شروع کر دی ہے اور یہ بیک جنبشِ ماؤس آپ کی کمپیوٹر سکرین نمودار ہو جاتی ہے۔ ویب سائٹ شروع کرنے کا انکشاف صدر نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ صدر مشرف کی تصاویر سے مزین اس ویب سائٹ پر صدر کے حالات، زندگی ان کی پسند نہ پسند، ان کی تقاریر، فوجی ملازمت کے دوران عسکری کارناموں کے علاوہ پاکستان کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی گئیں ہیں۔ اس ویب سائٹ پر صدر سے ’ای میل‘ کے ذریعے سوالات پوچھنے کی سہولت بھی مہیا کی گئی ہے۔یہ ویب سائٹ انگریزی میں ہے اور اس میں اردو کا کوئی صفحہ موجود نہیں۔ اس ویب سائٹ کا سب سے دلچسپ صفحہ’پرسنل لائف‘ یا ذاتی زندگی کے نام سے ہے جس کو ’لیڈر کے پیچھے شخصیت کی ایک نایاب جھلک‘ کی سرخی کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جنرل مشرف کی یہ ویب سائٹ دیکھئے اور اس پر ہمیں اپنے تاثرات بھیجئے۔ یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں
بلوچ مینگل، نوشکی: اس ویب سائٹ سے مشرف پوری دنیا، خصوصی طور پر امریکہ اور یورپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ اعتدال پسند ہیں۔ یہ ویب سائٹ پاکستان کے لئے نہیں، ان کی تشہیر کے لئے ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اسلامی ملک پاکستان میں لڑکیوں کو اسکرٹ پہننے کی اجازت ہے۔۔۔۔ ریحان احمد، بہاولپور: یہ تو وہی بات ہوئی کہ: تو مان یا نہ مان، میں تو ہوں پریسیڈنٹ آف پاکستان۔۔۔ محمد شاہد، مظفرگڑھ: سر، مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ہمارے صدر ملک کے علاقوں کے حالات جاننا چاہتے ہیں۔ صدر کی جانب سے یہ اچھا قدم ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ صدر قوم کی جانب کیسے پیش آتے ہیں۔ محمد ندیم، ٹورانٹو: یہ اچھی ویب سائٹ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ صدر خود ہی لوگوں کے سوالوں کا جواب نہیں دیں گے لیکن میں امید کرتا ہوں کہ اپنے بارے میں سوالات اور آراء سننے کے بعد ان کے اسٹاف جواب دیں گے ہر شخص کو۔ کلام لیاقت، میانوالی: میرے خیال میں یہ اچھی کوشش ہے۔ لیکن نہیں معلوم کہ وہ ہر سوال کا جواب دے سکیں گے؟  | سرکاری ویب سائٹ ہے  یہ پاکستان کے موجودہ صدر کے لئے سرکاری ویب سائٹ ہے۔ کم سے کم نام سے تو یہی واضح ہوتا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ وہ مستقبل میں بھی جب نیا صدر بنے گا تو اس ویب سائٹ کو اپڈیٹ کرتے رہیں گے۔  عاقف مختار، آسٹریلیا |
عاقف مختار، آسٹریلیا: میں سمجھتا ہوں کہ یہ مسٹر پریسیڈنٹ کی ذاتی ویب سائٹ نہیں ہے۔ یہ پاکستان کے موجودہ صدر کے لئے سرکاری ویب سائٹ ہے۔ کم سے کم نام سے تو یہی واضح ہوتا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ وہ مستقبل میں بھی جب نیا صدر بنے گا تو اس ویب سائٹ کو اپڈیٹ کرتے رہیں گے۔ عمران ملک، مظفرگڑھ: مجھے تو لگتا ہے کہ یہ پرویز مشرف کا ڈیجیٹل ورسن ہے۔ خیر ایسے تو ایسے ہی صحیح، مزہ تو تب ہے کہ یہاں پر پریسیڈنٹ صاحب سب سے آن لائن چیٹ کا بھی بندوبست کیا جاتا۔ بہر حال اپنے صدر صاحب کو آن لائن دیکھنا اچھا لگا۔ مشرف ایک لیجنڈ ہیں۔ عطیہ شیخ، ایڈمنٹن: میرے خیال میں مشرف خود کو پاکستان میں واحد انٹیلیجنٹ شخص کے طور پر پیش کرتے ہیں، اچھا ہوتا کہ وہ وزیراعظم کی ذمہ داریاں بھی لےلیتے، چاروں صوبوں کے گورنر اور وزرائے اعلیٰ بھی بن جاتے ۔۔۔۔ علی رضا، منڈی بہاء الدین: میرے خیال میں یہ بہت اچھا اقدام ہے، اس کی مدد سے لوگ آسانی سے اپنی آراء اور مسائل صدر تک پہنچا سکیں گے۔ ثنا خان، کراچی: بہت اچھی ویب سائٹ ہے اور اسے صدر کی شہرت میں اور اضافہ ہوگا بین الاقوامی بھی۔ لیکن اس پر بھی ایم ایم اے والے فتویٰ چھوڑ دیں گے کہ جو اس ویب سائٹ پر جائے گا اسلام سے خارج۔ عنایت اللہ طاہر، فیصل آباد: اپنے خیالات بھیجنے کے لئے کافی اچھا اقدام ہے۔ امجد علی طاہر، جرمنی: میری رائے میں اگر صدر صاحب نے یہ ویب سائٹ امریکہ اور انگلینڈ کے عوام کے لئے بنائی ہے تو بہت اچھی ویب سائٹ ہے۔ اور اگر یہ ویب سائٹ پاکستانی عوام کے لئے بنائی ہے تو جب صدر صاحب کو معلوم ہی نہیں کہ پاکستان کے تہتر فیصد عوام انگلش نہیں جانتے تو اس کا پاکستان یا پاکستانی عوام کو فائدہ؟ محمد عاصم فاروق، اسلام آباد: بہت اچھی کوشش ہوتی اگر یہ اپنے منہ خود میاں مٹھو بننے والی بات نہ ہوتی تو۔ اور جہاں تک بات ہے کہ ویب سائٹ کے ذریعے اپنے آپ کو اس ملک کا عقل کل ثابت کرنا تو میں معذرت کے ساتھ کہتا ہوں کہ دنیا جانتی ہے کہ وہ کیا ہیں۔۔۔۔ محمد نشاط، منیلہ: بہت اچھی بات ہے اگر ایک آسان اور تازہ ترین راستہ ہر کوئی اپنی بات اور اپنے خیالات معزز صدر تک پہنچانے کا ہو۔۔۔۔ حنیف سمون، ٹانڈو باگو: یہ سائٹ دیکھنا اچھا لگا۔ لیکن اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ صدر مشرف جو ماضی کے سیاست دانوں سے ’ڈیل‘ کرنے میں مصروف ہیں اس ویب سائٹ کو دیکھنے کا وقت نکالیں گے کہ لوگ انہیں کیا بھیج رہے ہیں۔۔۔۔ ابومصعب بلوچ، دوبئی: یہ بھی شخصیت پرستی کی ایک مثال ہے۔ جناب اگر آپ کو کچھ کرنا ہے تو ملک کے اداروں کو مضبوط کریں۔ سب اختیارات تو آپ نے اپنی ذات میں مرتکز کردیے ہیں اور آپ کیا چاہتے ہیں۔۔۔۔ محمد کاشف، لاہور: بہت جلد ہی میں صدر کو ایک ضلعی سطح کا ترقیاتی منصوبہ بھیجنے والا ہوں۔ چلئے دیکھتے ہیں کہ کیا وہ عوام کے بارے میں فکرمند ہیں۔۔۔ عارف اللہ سلیم، پاکستان: یہ کافی اچھا ہے کہ انہوں نے اپنی ویب سائٹ شروع کی ہے۔ سید افتخار حیدر، اونٹاریو: یہ اچھا آئڈیا ہے، سب کوئی صدر کی آفس تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ جہاں جنرل مشرف کی صدارت کے بارے میں کافی کچھ کہنے کو، وہیں یہ بات بھی صحیح ہے کہ شخص پاکستان کا صدر ہے۔۔۔۔ اختر زائم، سوئٹزلینڈ: یہ بہت اچھی ویب سائٹ بنائی ہے۔۔۔ میں مسٹر مشرف کو کافی پسند کرتا ہوں اور۔۔۔  | قوم پر مزید ایک بوجھ  اس سائٹ کو دیکھتے ہی میرے ذہن میں یہ فورا خیال آیا کہ قوم کے اوپر مزید ایک اور بوجھ، قوم پہلے ہی ملک کی تاریخ کی اتنی بڑی کیبینیٹ کا بوجھ بھی سنبھال رہی ہے۔  اختر عباس، کراچی |
اختر عباس، کراچی: اس سائٹ کو دیکھتے ہی میرے ذہن میں یہ فورا خیال آیا کہ قوم کے اوپر مزید ایک اور بوجھ، قوم پہلے ہی ملک کی تاریخ کی اتنی بڑی کیبینیٹ کا بوجھ بھی سنبھال رہی ہے، حکمرانوں کا کیا جاتا ہے، پیسہ کون سا ان کی جیب سے جاتا ہے؟ عوام کا دیا ہوا ٹیکس اب ویب سائٹ پر خرچ ہوں گے۔ مجھے یقین ہے کہ اس سے آپ کے ٹارگیٹ پورے نہیں ہوں گے۔ عقیل جعفری، منڈی بہاءالدین: پریسڈینٹ کی یہ ویب سائٹ دوسرے کنٹریز میں پاکستان کا وقار بلند کرے گی اور پاکستانیوں کے پرابلم حل ہوں گے۔ حیدر ہزارہ، کوئٹہ: میرے خیال میں یہ صدر کا اچھا قدم ہے۔ انہوں نے ثابت کردیا ہے کہ وہ دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں واقفیت رکھتے ہیں، میرے خیال میں پاکستان کی تاریخ میں وہ پہلے رہنما ہیں جنہوں نے یہ کیا ہے۔ محمد علی، ٹورانٹو: ذاتی ویب سائٹ کا خرچ اپنی جیب سے دیا جانا چاہئے، گورنمنٹ کے بجٹ سے نہیں۔ تمام مغربی رہنماؤں کی ذاتی ویب سائٹیں گورنمنٹ خرچے سے نہیں چلتی ہیں۔ آصف مشتاق، فرمنٹ، امریکہ: مجھے اس ویب سائٹ کے بارے میں بی بی سی کے ذریعے معلوم ہوا۔ یہ اچھا ہے دوسرے ممالک کے لوگوں کو دکھانے کے لئے، کیوں کہ اس وقت بہت لوگ پاکستان کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ اس ویب سائٹ کی وجہ سے پاکستان کے باہر جنرل مشرف کی تصویر بدل سکتی ہے۔ عاصم، راولپنڈی: یہ ایک ملٹری ڈکٹیٹر کی چال ہے اپنے آپ کو ماڈرن ظاہر کرنے کی، ورنہ جرات نہیں کہ کبھی عوام میں جاسکیں۔ اگر مشرف اپنے بارے میں عوام کی رائے کا آپشن رکھیں تو ان کو معلوم ہوجائے گا کہ عوام ان کو کیا سمجھتے ہیں، یہ ویب سائٹ کچھ ہی دن چلے گا۔ عمران بنگش، ایبٹ آباد: اچھا لگا یہ دیکھ کر کہ صدر پہلے صفحہ پر ملٹری یونیفارم میں نہیں ہیں۔ وہ جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں واقف ہیں اور ان پر ہمیں فخر ہے۔ عارف علی، ٹورانٹو: مجھے نہیں معلوم کہ یہ اچھا قدم ہے یا نہیں لیکن ویب ماسٹر نے کافی محنت کی ہے۔ میں حکومت سے کہنا چاہوں گا کہ وہ یہی کوشش حکومت کی دوسری ویب سائٹیں بنانے میں بھی کرے۔ اور وہ لائف ٹائم صدر نہیں ہیں، ویب سائٹ پاکستان کے مستقبل کے تمام صدور کے لئے ہونی چاہئے۔ لگتا ہے کہ یہ ان کی ذاتی ویب سائٹ ہے، نہ کہ صدر کی سائٹ ہے۔ گاڈ بلیس پاکستان شازیہ نظامی، پاکستان: ویب سائٹ اچھی ہے اور اس پر بھیجی جانے والی میل کو اہمیت دینی چاہئے اور ان کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے کیوں کہ اس میں کوئی اہم نیشنل ایشو پر بات کرسکتے ہیں۔ نوشی، پاکستان: یہ ویب سائٹ کافی اچھی ہے اور عوام اب صدر سے ذاتی طور پر رابطہ کرسکتے ہیں۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ صدر مشرف بات کے پکے ہیں اور پاکستان کے وفادار ہیں۔ اور اہمیں ان کی قیادت کی اور گائڈنس کی ضرورت ہیں۔ حسن علی، اٹلی: یہ بہت اچھا کام کیا مشرف صاحب نے۔ اس سائٹ سے جو لوگ دوسرے ممالک میں رہتے ہیں وہ پاکستان اور اس کے صدر کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ عفاف اظہر، ٹورانٹو: جنرل صاحب تو جو چاہیں کرسکتے ہیں، جب تک سر پر اباجی ہیں ویب سائٹ تو ایک طرف پورے نیٹ پر چھاسکتے ہیں۔ گل انقلابی، دادو: پاکستانی ڈِکٹیٹر کی مسخ ہوتی ہوئی تصویر کو بہتر بنانے کی یہ ایک اور ناکامیاب کوشش ہے۔ ان کے دن ختم ہوگئے ہیں اور لگتا ہے کہ وہ افراتفری کے حالت میں ہیں۔ وہ ملک کے اندر اور بیرون ملک بے نقاب ہوگئے ہیں۔ القاعدہ اور امریکہ دونوں ان کے خلاف ہیں۔۔۔۔۔ کرن جبران، واٹرلو: جناب کیا رائے دیں ہم جنرل صاحب تو جنرل صاحب ہیں اور بڑے لوگوں کی بڑی باتیں۔۔۔۔  | اچھے مواد بھی ہیں  میں نے یہ ویب سائٹ دیکھی ہے اور اسے دیکھ کر کافی خوش ہوں۔ اچھے طریقے سے اس کی تیاری کی گئی ہے اور اچھے مواد بھی ہیں۔  ہمایوں اعجاز، جرمنی |
ہمایوں اعجاز، جرمنی: میں نے یہ ویب سائٹ دیکھی ہے اور اسے دیکھ کر کافی خوش ہوں۔ اچھے طریقے سے اس کی تیاری کی گئی ہے اور اچھے مواد بھی ہیں۔ ان کی لیڈرشپ میں کامیابی کے لئے میں دعا کرتا ہوں۔ جرمنی میں ایک پاکستانی طالب علم ہونے کے ناطے مجھے لگتا ہے کہ میرے ملک کا نام جنرل مشرف کے دور میں مغرب میں بلند ہوا ہے۔۔۔۔ تربیلی، امریکہ: کعبہ کس منہ سے جاؤگے غالب، شرم مگر تم کو نہیں آتی۔۔۔۔ ابوبکر مینن، جدہ: یہ اچھا قدم لگ رہا ہے۔ اگر صحیح طریقے سے اس کا استعمال کیا جائے تو عوام کے لئے اچھا ثابت ہوسکتا ہے، صدر اور عوام کے درمیان تعلقات کا بہتر ذریعہ ہوسکتا ہے۔ زیاد احمد، کراچی: یہ صدر صاحب کا اپنے آھ کو فیمس رکھنے اور عوام کو بیوقوف بنانے کا ایک اور طریقہ ہے۔ زاہد رانا، گجرانوالہ: پرویز مشرف کی ویب سائٹ فراڈ ہے اور یہ صرف عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش ہے۔ ہم گزارش کریں گے کہ خدارا اس ملک کی جان چھوڑ دو۔ آپ ہمارا بیڑہ غرق کر ہی چکے ہو۔ مزید کئی کسر باقی نہیں بچی۔ عبدالوحید حاکمی، جرمنی: اپنے منہ آپ میاں مٹھو۔ عوام کے صدر صاحب سے محبت اور عوام میں صدر صاحب کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ پانچ سال بعد صدر صاحب کو خود ہی اپنی ویب سائٹ بنانا پڑی۔ اگر عوام کے لئے کچھ کیا ہوتا تو کہیں پہلے صدر صاحب کی زندگی کے بارے میں ہزاروں ویب سائٹیں موجود ہوتیں، جیسا کہ تمام بڑے رہنماؤں کی ہیں۔ زین ملک، اسپین: یہ ویب سائٹ پاکستان کا وژن بہتر بنانے میں مدد کرسکتی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنے باقی اداروں کو بھی ویب سائٹ عالمی بنیاد پر ڈیژائن کرے۔ امیر بخش بابر، حیدرآباد: اگر صدر صاحب عوام سے اپنا رشتہ جوڑنا چاہتے ہیں تو پہلے وہ میڈیا کو مکمل آزادی دیں اور مخالف میں شائع ہونے والی خبروں اور مضمونوں سے گھبراکر پریس کو دھمکیاں نہ دیں۔ رہی بات مشرف کی تو وہ منڈیلا نہیں جو ان سے ہم بات کریں۔ گارسیا مارکیز نے صحیح لکھا ہے کہ جنرل کو کوئی خط نہیں لکھتا۔ تنویر احمد ٹینی، ڈی آئی خان: صدر کا یہ اچھا فیصلہ ہے کیوں کہ عوام براہ راست اپنے خیالات ان تک پہنچاسکتے ہیں۔ جمیل احمد، الحسنی، پاکستان: ویب سائٹ کے لئے ’’پریسیڈینٹ آف پاکستان’’ کا نام بالکل غلط ہے۔ اس کے لئے صرف کیا وہی پاکستان کے صدر رہے ہیں؟ شہزاد ریاض، پونچھ: جناب میری رائے صرف یہ ہے کہ آپ پاکستان کو مضبوط بنائیں اور دہشت گردی کو ختم کریں۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔  | انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی  مجھے اس ویب سائٹ کے بارے میں بی بی سی اردو کے ذریعے معلوم ہوا، اور یہ ویب سائٹ مجھے کافی اچھی لگی۔ جدید ممالک کی طرح اب ہمارا ملک بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کررہا ہے۔ اس ویب سائٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ کیسے عوام کو اہم معلومات فراہم کی جاسکتی ہیں۔  مدثر خان، اسلام آباد |
مدثر خان، اسلام آباد: مجھے اس ویب سائٹ کے بارے میں بی بی سی اردو کے ذریعے معلوم ہوا، اور یہ ویب سائٹ مجھے کافی اچھی لگی۔ جدید ممالک کی طرح اب ہمارا ملک بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کررہا ہے۔ اس ویب سائٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ کیسے عوام کو اہم معلومات فراہم کی جاسکتی ہیں۔ یہ ویب سائٹ صرف جنرل مشرف کے لئے نہیں بلکہ حکومت کے لئے اور عوام کے لئے بھی انفارمیشن رسورس کی حیثیت سے کام کرے گا۔مجھے اچھا لگا کہ ان کی تقاریر شائع کی گئی ہیں اور ان سے براہ راست رابطہ قائم کرنے کے لئے ذریعہ فراہم کیا گیا ہے۔ جمعہ خان، راولپنڈی: یہ سب فراڈ ہے۔ اگر آمنے سامنے لوگوں کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات کرنے کی جرات ہے تو ہر روز پریس کانفرنس کروالیا کریں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ صرف یہاں اپنے موقف کو واضح کرلیے اور اپنے چالاکیوں کو چھپانے کے لئے من پسند گھڑی ای میل کا جواب دیا جائے گا۔ مظفر خان، یو اے ای: بہت اچھی بات ہے کہ ہمارے صدر صاحب کو بھی اس بات کا خیال آیا، ویسے آج کل دنیا میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، ایک عام سی بات ہے۔ عمار بھٹہ، امریکہ: جنرل مشرف اقتدار کے بھوکے ہیں۔ یہ بھی ان کی جانب اسی بات کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو لیڈر کی حیثیت سے پیش کرنا چاہتے ہیں، غیرقانونی ملٹری ڈکٹیٹر کی طرح نہیں۔ |