’دہی پھلکی اور کھیر پسند ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے ذاتی ویب سائٹ شروع کر دی ہے اور یہ ’بیک جنبشِ ‘ ماؤس آپ کی کمپیوٹر سکرین نمودار ہو جاتی ہے۔ ویب سائٹ شروع کرنے کا انکشاف صدر نے اسلام آباد میں اپنی ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ صدر مشرف کی تصاویر سے مزین اس ویب سائٹ پر صدر کے حالات، زندگی ان کی پسند نہ پسند، ان کی تقاریر فوجی ملازمت کے دوران عسکری کارناموں کے علاوہ پاکستان کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی گئیں ہیں۔ اس ویب سائٹ پر صدر سے ’ای میل‘ کے ذریعے سوالات پوچھنے کی سہولت بھی مہیا کی گئی ہے۔ یہ ویب سائٹ انگریزی میں ہے اور اس میں اردو کا کوئی صفحہ موجود نہیں۔ ویب سائٹ پر ایک نظر ڈالتے ہی یہ خیال آتا ہے کہ یہ ویب سائٹ پاکستانی عوام کے بجائے بیرونی دنیا میں صدر کا ’امیج‘ اور زیادہ بہتر کرنے کے لیے شروع کی گئی ہے۔ اس ویب سائٹ کا سب سے دلچسپ صفحہ’پرسنل لائف‘ یا ذاتی زندگی کے نام سے ہے جس کو ’لیڈر کے پیچھے شخصیت کی ایک نایاب جھلک‘ کی سرخی کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ اس صفحے پر سوال اور جواب کےانداز میں صدر کی ذاتی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔
اس صفحے پر تیسرا سوال ہی صدر کے پسندیدہ پکوانوں کے بارے میں ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے صدر صاحب فرماتے ہیں کہ انھیں دال، کھیر اور دہی پھلکی بہت پسند ہے۔ ان کے پسندیدہ گلو کاروں میں مہدی حسن، ناہید اختر اور مہناز شامل ہیں۔ پرانے گانے اور غزلیں سن کرصدر بہت محظوظ ہوتے ہیں اور کھیلوں میں انہیں تیراکی اور ٹینس پسند ہیں۔ بلال اور عائلہ ان کے بچے ہیں جن کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ وہ اعلی تعلیم یافتہ، معتدل مزاج اور محبت کرنے والے ہیں۔ اپنی شریک حیات کے بارے میں صدر کہتے ہیں وہ سنجیدہ اور متوازن شخصیت کی مالک ہیں اور ان کا مطالعہ بھی بہت ہے۔ صدر کہتے ہیں ان کی بیوی مذہبی لیکن معتدل خیالات والی خاتون ہیں۔ قائد اعظم اور ایوب خان ان کے پسندیدہ رہنماؤں میں شامل ہیں۔ اور اس سوال کے عین مقابل فاطمہ جناح کی تصویر آویزاں کی گئی ہے جس کے پیش منظر میں صدر مشرف کو تقریر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویب سائٹ پر جو بھی تصاویر نمایاں ہیں ان میں سے کسی ایک میں بھی صدر مشرف فوجی وردی میں ملبوس نہیں۔ پاکستان کے بارے صدر کے ’وژن‘ یا خواب کے نام سے جو صفحہ ہے اس میں صدر کے وہ سات نکات شامل ہیں جو انھوں نے ایک منتخب وزیر اعظم کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کے بعد دیے تھے۔ ایک اور سوال کے جواب میں صدر کہتے ہیں کہ صدر نکسن کی کتاب ’لیڈرز‘ حال ہی میں ختم کی ہے اور وہ انہیں بہت دلچسپ لگی۔ جاوید میانداد پسندیہ کھلاڑی اور استنبول پسندیدہ شہر ہیں۔ جبکہ صدر سنگاپور کے رہنما لی کوان یو سے بہت متاثر ہیں۔ ان کی زندگی کی یادگار ترین دن بارہ اکتوبر دو انیس سو نناوے ہے جس دن انہوں نے منتخب حکومت کو ختم کرکے عنان اقتدار سنبھالہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے آرمی چیف کے عہدے پر تقرری ان کی زندگی کافیصلہ کن موڑ تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||