فوج ہی مدد کر رہی ہے: جنرل مشرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ وہ لوگ جو آرمی کے خلاف باتیں کرتے ہیں دیکھ لیں کے مصیبت کی اس گھڑی میں آرمی کے جوان ہی لوگوں کی مدد کر رہے ہیں اور باتیں بنانے والے گھروں میں بیٹھے ہیں۔ گوادر اور پسنی کے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران لوگوں سے خطاب اور صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ بعض لوگ جو آرمی کے خلاف باتیں کرتے ہیں یہاں کے لوگوں کو محکوم رکھنا چاہتے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ بلوچستان ترقی کرے ۔ پرویز مشرف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بیرونی ہاتھ کے عنصر کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا ہے کہ فرنٹیئر کور کے بارہ ونگ قائم کی جائیں گی جس میں بلوچستان کے چار ہزار سے زیادہ افراد کو روزگار فراہم ہو گا اس طرح میگا پراجیکٹس میں بھی بلوچستان کے مقامی لوگوں کو ترجیح دی جائے گی۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے پسنی سنسر اور دیگر علاقوں میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ حکومت نقصانات کا اندازہ لگا رہی ہے ۔ انھوں نے ہلاک شدگان کے لیے ایک ایک لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے جن لوگوں کا نقصان ہوا ہے وہ حکومت برداشت کرے گی اور جن لوگوں کی زراعت تباہ ہوئی ہے حکومت انھیں بلا سود قرضے دے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||