بلوچستان آپریشن نہیں ہوگا:مشرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن نہیں ہوگا۔ صوبے میں فوج اہم تنصیبات کی حفاظت کے لیے موجود رہے گی کیونکہ صوبائی حکومت کی درخواست پر فوج وہاں بھیجی گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو حکومتی اتحاد کے نمائندوں سے ملاقات میں کیا۔ حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین کی سربراہی میں صدر سے ملاقات کرنے والے وفد میں سید مشاہد حسین، سینیٹ میں قائد ایوان وسیم سجاد، اور بلوچستان کے پارلیمینٹیرینز کے علاوہ کئی وزراء بھی شامل تھے۔ ملاقات میں شامل وزیرمملکت برائے سمندر پار پاکستانی، اور مسلم لیگ کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات طارق عظیم نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ صدر نے واضح طور پر کہا ہے کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن نہیں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ صدر نے صوبائی خودمختاری کی حمایت کی اور کہا کہ اس ضمن میں کمیٹی سفارشات مرتب کرے، ان پر بعد میں غور کیا جائے گا۔ صدر نے چودھری شجاعت حسین کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو کام جاری رکھنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوششیں جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ صدر نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صوبے میں جتنے منصوبے اب شروع کیے گئے ہیں اتنے ماضی میں نہیں ہوئے۔ صدر نے افسوس ظاہر کیا کہ ماضی کی حکومتوں نے بلوچستان کو نظرانداز کیا۔ لیکن ان کی حکومت صوبے کے لوگوں کی احساس محرومی ختم کرے گی۔ طارق عظیم کے مطابق ملاقات میں دوسرا اہم معاملہ پانی کے ذخائر کی تعمیر کا زیر غور رہا، جس کے بارے میں صدر نے کھل کر باتیں کیں اور کہا کہ آئندہ دس برسوں میں ملک کو دو بڑے ڈیمز کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق صدر نے کہا کہ کالاباغ اور بھاشا ڈیم بنانے ہوں گے۔ تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ پانی کے متعلق بنائی گئی فنی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||