BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 February, 2005, 17:09 GMT 22:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: مذاکرات کیلیےشرائط

News image
پاکستان کی سینیٹ میں حزب مخالف کے بلوچ سینیٹرز نے حکومت سے مذاکرات کے لیے سخت شرائط پیش کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر سیکیورٹی فورسز نے کوئی کارروائی کی تو وہ بھرپور مزاحمت کریں گے۔

سینیٹر ثناء اللہ بلوچ، اسلم بلیدی اور دیگر نے کہا کہ جب تک بلوچستان سے فرنٹیئر کنسٹیبلری کی چوکیاں ختم نہیں ہوں گی، فوج واپس نہیں بلائی جائے گی، فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا جاتا، گوادر سمیت تمام بڑے منصوبوں پر کام روکا نہیں جاتا اور خاتون ڈاکٹر کی عزت لوٹنے والے فوجی افسر کو گرفتار نہیں کیا جاتا اس وقت تک وہ حکومت سے مذاکرات نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ بندوق، توپ اور ٹینک کے زور پر حکومت سے مذاکرات نہیں کریں گے اور اگر سیکیورٹی فورسز نے کوئی کارروائی کی تو بلوچ مزاحمت کریں گے۔

حکومتی بینچوں پر بیٹھنے والے سینیٹر مہم خان بلوچ نے بھی صوبے سے فوج واپس بلانے، بڑے ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں انہیں اعتماد میں لینے اور وسیع تر صوبائی خودمختاری دینے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سن انیس سو چالیس کی قرار داد کے مطابق دفاع، کرنسی اور خارجہ محکمے اپنے پاس رکھے اور باقی تمام محکمے صوبوں کے حوالے کرے۔

حکمران مسلم لیگ اور حلیف جماعتوں کے سینیٹرز نے بلوچستان کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔ جبکہ بعض حکومتی سینیٹرز نے چند بلوچ سرداروں کو صوبے کی ترقی میں رکاوٹ قرار دیا۔

حزب مخالف کے سینیٹر اسلم بلیدی نے کہا کہ جن بڑے ترقیاتی منصوبوں کی بات کی جاتی ہے اس میں میرانی ڈیم بھی ہے۔ ان کے مطابق بلوچ عوام کہتے ہیں کہ اس ڈیم سے زراعت کے لیے پانی فراہم کریں تاکہ پانچ لاکھ ایکڑ زمین آباد کی جا سکے لیکن حکمران کہتے ہیں نہیں اس ڈیم سے گوادر کو پینے کا پانی دیا جائے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گوادر میں ساٹھ فیصد زمینیں دیگر صوبوں کے لوگوں نے خریدی ہیں اور ایسے منصوبے سے جب بلوچ عوام کو فائدہ نہیں ہے تو وہ کیوں قبول کریں؟

ثناء بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں اٹھائیس سردار ہیں جن میں سے چوبیس حکومت کی جیب میں ہیں۔ جو سردار حکومت کے مخالف ہیں وہ نہ صرف قبائلی سربراہ ہیں بلکہ بلوچ قوم کے نمائندے بھی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سردار عطاء اللہ مینگل کو عوام نے وزیراعلیٰ منتخب کیا اور انہیں محض نو ماہ رہنے دیا گیا اور اس قلیل مدت میں انہوں نے صوبے کی پہلی یونیورسٹی اور میڈیکل کالج بنایا۔ ان کے مطابق سن انیس سو ستر تک بلوچستان میں انٹرمیڈیٹ بورڈ نہیں تھا اور صوبے کے امتحانات ملتان بورڈ لیتا تھا اور پہلا بورڈ بھی سردار مینگل نے صوبے میں بنایا۔

انہوں نے بلوچستان کی تاریخ کا تفصیل سے ذکر کیا اور جغرافیائی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بلوچستان کے بغیر پاکستان کی کوئی اہمیت نہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وفاق سوئی سے نکلنے والی گیس سینتالیس روپوں میں جبکہ پنجاب سے وہ ہی گیس دو سو بائیس روپوں میں خریدتا ہے۔ ان کے بقول اگر ایسا امتیازی سلوک ہوگا تو ملک نہیں چلے گا۔

انہوں نے ملک کے متفقہ آئین سے’ کنکرنٹ لسٹ‘ ختم کر کے صوبوں کو مکمل خودمختاری دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس سے کم پر اب بات نہیں ہوگی۔

بلوچستان کے متعلق دو دنوں سے سینیٹ میں قواعد معطل کر کے بحث کی جا رہی ہے جو امکان ہے کہ جمعہ کے روز سمیٹی جائے گی۔

بلوچستان: پسماندگی اور شکایتوں کا لاواپسماندگی اور وفاق
بلوچ پسماندگی اور شکایات کا لاوا ابل رہا ہے
گیسقبائلی حملے کا اثر
گیس سے دس لاکھ ڈالر روزانہ کا نقصان ہو رہا ہے
بلوچستان کاروائی:
حزب اختلاف کے مطابق موجودہ کاروائی سےفوج کی ساکھ متاثر ہوگی۔
بلوچستان’بلوچ لبریشن آرمی‘
بلوچ لبریشن فرنٹ وجود رکھتی ہے: وزیر اعلیٰ
بلوچستان اسمبلیزچگی میں اموات
بلوچستان میں زچگی کے دوران شرح اموات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد