سارک سربراہ کانفرنس التوا شہ سرخیوں میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تیرہویں سارک سربراہ کانفرنس کا التوا اور کراچی میں ایکسپو نمائش کا افتتاح آج کے اخباروں کی بڑی خبریں ہیں اور بلوچستان اور عراق قدرے پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ روزنامہ خبریں کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی اور بی جے پی کے قائد ایل کے اڈوانی کے مشورے پر بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے سارک سربراہ کانفرنس کے لیے ڈھاکہ جانے سے انکار کیا۔ نوائے وقت کہتا ہے التوا پر پاکستان کا اظہار افسوس۔ جنگ کی دوسری بڑی خبر صدر جنرل پرویزمشرف کا کراچی میں بدھ کے روز سے شروع ہونے والی ایکسپو کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب ہے۔ اخبار کہتا ہے صدر نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، پاکستان میں سرمایہ لگا کر غربت، دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے میں مدد دی جائے۔ نوائے وقت کے مطابق صدر نے کہا کہ حکومت نے القاعدہ کی فوجی اعتبار سے کمر توڑ دی ہے۔ روزنامہ پاکستان اور خبریں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیراعظم شوکت عزیز کی صحافیوں سے گفتگو کو بھی نمایاں طور پر شائع کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ بگلیہار ڈیم سے پاک بھارت مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے اور یہ کہ پارلیمانی کمیٹی کا بلوچ رہنماؤں سے رابطہ ہے جس کے مثبت نتائج نکلیں گے۔ روزنامہ پاکستان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ گیس کی تنصیبات کی حفاظت کے لیے اقدامات کر لیے ہیں اور بلوچستان کا معاملہ افہام و تفہیم سے حل کیا جائےگا۔ جنگ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے کہا کہ لیڈی ڈاکٹر کیس میں جو بھی ملوث ہوا اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔ روزنامہ پاکستان نے امریکی فوج کے حوالے سے یہ خبر شائع کی ہے کہ اس نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں پاکستان کی درخواست پر وانا میں بمباری کی۔ تاہم پاک فوج کے بریگیڈیئر شاہ جہاں نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف تعاون جاری ہے لیکن امریکہ کو کبھی اپنی زمین پر کارروائی کی اجازت نہیں دی۔ اخبار کے مطابق وزیر خارجہ خورشید قصوری نے اس خبر کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ایران کے ایٹمی پروگرام پر اس کی امریکہ سے کشیدگی اب اخباروں میں زیادہ نمایاں طور پر نظر آنے لگی ہے۔ آج جنگ کی صفحہ اول پر تین کالمی خبر ہے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے کہا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے قریب کسی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا اور وہ ایران اور امریکہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرے گا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اور امریکہ میں ایٹمی تنازعہ پر تصفیہ کے لیے پاکستان یورپی ملکوں کی سوچ کی حمایت کرتا ہے۔ صدر پرویز مشرف کے کل سندھ میں جلسہ عام سے خطاب پر جمعرات کو بعض اخبارات نے اداریے لکھے ہیں۔ روزنامہ نوائے وقت کا ادارتی نوٹ خاصا تنقیدی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ صدر مشرف نے کہا کہ عوام ان پر بھروسہ کریں وہ ان کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے۔ اخبار کہتا ہے کہ عوام پانچ سال سے صدر مشرف پر بھروسہ کر رہے ہیں لیکن ان کے مسائل حل نہیں ہوئے بلکہ الٹا ملک کا نظریاتی تشخص شکوک و شبہات اور خدشات کی زد میں ہے۔ جنگ نے اس پر طویل اداریہ لکھا ہے جس میں صدر مشرف کے اس موقف کی حمایت کی گئی ہے کہ بعض سیاسی حلقے غیر اہم اور غیر ضروری معاملات کو ایشوز بنا لیتے ہیں اور عوام کے اصل مسائل و مشکلات پس پردہ چلے جاتے ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ان مسائل کو اولیت دینا ضروری ہے جنہیں دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے اپنی اولیں ترجیح قرار دے کر ان پر مؤثر عمل درآمد کا اہتمام کیا ہے۔ نوائے وقت میں سابق اعلٰی سرکاری افسر روئداد خان نے ایک مضمون لکھا ہے جس کا عنوان ہے مایوسی کا گھٹا ٹوپ اندھیرا۔ اس میں وہ کہتے ہیں حکمرانوں کے نقائص اور محکوموں کی کمزوریاں بہت جلد اس ملک کو زمین بوس کر دیں گی۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ فوجی حکمرانی کے خلاف عوام کا غم وغصہ کہاں گیا؟ وہ قیادت کہاں گئی جو مقابل آ کر کہہ سکے کہ ہمارے ساتھ بہت ہو چکی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا تاریک دور ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||