چالیس روپے فی مربع فٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد کے مہنگے ترین سیکٹر E-10 میں پاکستان فوج کو اپنے ہیڈ کوارٹر یعنی جی ایچ کیو کی تعمیر کے لیے 1,165 ایکڑ زمین چالیس روپے فی مربع فٹ کے حساب سے الاٹ کی گئی ہے جبکہ اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس زمین کی کبھی نیلامی ہوئی ہی نہیں۔ یہ بات وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ نے بدھ کو سینیٹ کے اجلاس میں ایک تحریری جواب میں کہی۔ نئے جی ایچ کیو کی اسلام آباد میں تعمیر عنقریب شروع ہونے والی ہے جس کی وجہ آرمی چیف اور صدر جنرل پرویز مشرف کی حفاظت بتائی جاتی ہے۔ جی ایچ کیو اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ جنرل مشرف پر دسمبر 2003 میں ہونے والے قاتلانہ حملوں کے بعد کیا گیا تھا۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں نے جی ایچ کیو کے لیے سستے داموں زمین کے حصول کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ مجلس عمل کے پارلیمینٹیرینز نے اس مسئلے پر سینیٹ اور قومی اسمبلی میں تحریک التوا بحث کے لیے جمع کرائی ہوئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ جی ایچ کیو کو زمین سستے داموں فروخت کرنے سے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو پانچ سو ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اپوزیشن نے الزام لگایا ہے کہ ان 1,165 ایکڑ کے علاوہ سکیورٹی کے نام پر آرمی کو 870 ایکڑ مزید زمین گزشتہ سال دسمبر میں الاٹ کی گئی ہے۔ اس زمین کو 150 روپے مربع فٹ کے حساب سے الاٹ کیا گیا ہے جبکہ اس سے ملحقہ سیکٹر ایف ٹین میں زمین ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے فی مربع فٹ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||