BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 September, 2004, 13:03 GMT 18:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جی ایچ کیو اسلام آباد میں

پریڈ
اسلام آباد میں جی ایچ کیو کا منصوبہ شہر کے ماسٹر پلان میں شامل تھا
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے پیر کے روز انتہائی سخت حفاظتی انتظامات میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بری فوج کے ہیڈ کوارٹر جی ایچ کیو کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ تینوں مسلح افواج، بری، بحری اور فضائیہ کے ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں ساتھ ہونے سے افواج کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔افتتاحی تقریب میں وفاقی وزراء اور سینیئر فوجی حکام بھی موجود تھے۔

سن پینسٹھ کی جنگ کے بعد تینوں مسلح افواج کے ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں زمین بھی رکھی گئی تھی، لیکن صدر پاکستان کے بقول مالیاتی معاملات کی وجہ سے عمل درآمد میں تاخیر ہوتی رہی۔

صدر نے کہا کہ بری فوج نے سن دو ہزار میں تعمیر شروع کرنے کا فیصلہ کیا لیکن بدلتی ہوئی علاقائی اور عالمی صورتحال کے پیش نظر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ راولپنڈی سے اسلام آباد جی ایچ کیو مختصر ترین مدت میں منتقل کیا جائے گا جس سے اسلام آباد اور راولپنڈی کی دو جگہوں میں دفتری معاملات کی وجہ سے جو خرچہ ہو رہا ہے وہ کم ہو سکے۔

پاک بحریہ نے تو آب پارہ اسلام آباد سے اپنا ہیڈ کوارٹر ماسٹر پلان کے مطابق مختص کردہ جگہ میں منتقل کرلیا ہے اور فضائیہ نے وہاں پر اپنے بہت سے دفاتر بنالیےگو اس کے بہت سے اہم دفاتر پشاور میں اس کے دوسرے ہیڈ کوارٹر میں بھی ہیں۔لیکن بری فوج نے راولپنڈی کے گنجان آباد علاقہ میں واقع اپنا ہیڈ کوارٹر اسلام آباد منتقل کرنے کے لیے تعمیرات شروع نہیں کی تھیں۔

گزشتہ دسمبر میں یکے بعد دیگرے راولپنڈی کے گنجان آباد علاقے میں صدر جنرل پرویز مشرف پر ہونے والے دو حملوں کے بعد بری فوج کے ہیڈ کوارٹر کی اسلام آباد میں فوری تعمیر کا فیصلہ کیا گیا۔

صدر نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ جی ایچ کیو کمپلیکس اہم ماڈل ہوگا جہاں رہائش، تعلیم، صحت اور دیگر جدید سہولیات فراہم کی جائیں گیں اور ان سہولیات سے ملحقہ آبادی بھی فائدہ اٹھائے گی۔

تینوں مسلح افواج کے ہیڈ کوراٹر کے لیے اسلام آباد میں جس جگہ زمین مختص کی گئی ہے وہ علاقہ دفاعی اعتبار سے خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک جانب مرگلا کی اونچی پہاڑیاں ہیں جبکہ سامنے بھی کوئی خاص آبادی نہیں۔

اسلام آباد کی کیپٹل ڈیویلپمینٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے حکام کے مطابق ایک موقع پر تاثر دیا جا رہا تھا کہ بری فوج اپنا جی ایچ کیو ماسٹر پلان کےمطابق اسلام آباد منتقل نہیں کرنا چاہتی بلکہ اس کےلیے مخصوص جگہ پر فوج کے افسروں کے لیے رہائشی سکیم بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

بری فوج کے ہیڈ کوارٹر کے لیے مختص کردہ زمین پر بعض لوگوں نے تجاوزات بھی بنا لیں تھی جن میں بہت سی سی ڈی اے نے ہٹادیں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد