BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 January, 2004, 11:33 GMT 16:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جی ایچ کیواسلام آباد میں

جی ایچ کیو

اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں مارگلہ پہاڑیوں کے بیچ اور فیصل مسجد سے بائیں ہاتھ جہاں ائر فورس کی کالونی ختم ہوتی ہے ایک پورا سیکٹر مسلح افواج کے تینوں شعبوں کے ہیڈ کوراٹر کے لیے مخصوص کیا گیا تھا۔

پاک بحریہ نے تو آب پارہ اسلام آباد سے اپنا ہیڈ کوارٹر ماسٹر پلان کے مطابق اس سیکٹر ای گیارہ میں منتقل کرلیا ہے اور فضائیہ نے وہاں پر اپنے بہت سے دفاتر بنالیےگو اس کے بہت سے اہم دفاتر پشاور میں اس کے دوسرے ہیڈ کوارٹر میں بھی ہیں۔ یہاں ایک ٹیلہ پر بہت پرشکوہ عمارت دکھائی دیتی ہے جو فضائیہ کی میس کی ہے۔

تاہم بری افواج کا جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) ابھی تک راولپنڈی میں قائم ہے جس کے قریب کنٹونمنٹ کے علاقہ میں فوج کے افسروں کی کوٹھیاں بھی ہیں۔

اسلام آباد کی کیپٹل ڈیویلپمینٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) میں کچھ دنوں پہلے تک یہ تاثر تھا کہ بری فوج اپنا جی ایچ کیو ماسٹر پلان کےمطابق اسلام آباد منتقل نہیں کرنا چاہتی بلکہ اس کےلیے مخصوص جگہ پر فوج کے افسروں کے لیے رہائشی سکیم بنانے کا کہا جارہا ہے۔

تاہم جب سے راولپنڈی کے گنجان آباد علاقہ میں صدر جنرل پرویز مشرف پر دو ناکامیاب لیکن بہت خطرناک قاتلانہ حملے ہوۓ ہیں اس خیال میں کچھ تبدیلی کے آثار نظر آتے ہیں۔

ایک تو جنرل مشرف راولپنڈی میں آرمی ہاؤس سے ایوان صدر منتقل ہورہے ہیں جس کی تزئین او آرائش اور حفاظتی اقدامات تقریبا مکمل ہوچکے ہیں دوسرے جی ایچ کیو نے سی ڈی سے سے اسلام آباد میں جی اچ کیو کو منتقل کرنے کے لیے بات چیت شروع کردی ہے۔

سی ڈی اے نے اس سیکٹر کے لیے زمین خرید کر تو رکھی ہوئی ہے لیکن جیسا کہ اسلام آباد میں ہوتا ہے کہ جس سیکٹر میں تعمیر کا کام شروع نہ ہو وہاں لوگ تجاوزات بنا لیتے ہیں اس امید کے ساتھ کہ جب تعمیرات ہوں گی تو انھیں وہاں سے ہٹنے کا کچھ معاوضہ مل جاۓ گا۔ ایسا ہی جی ایچ کیو کے سیکٹر گیارہ کے ساتھ ہوا ہے۔

جمعرات کو جی ایچ کیو کے افسروں کا ایک وفد سی ڈی اے کے چئیرمین کامران لاشاری سے ملا اور ان سے اس سیکٹر میں جی ایچ کیو کے قیام کے لیے تجاوزات ہٹانے اور سیویج اور پانی کی لائنیں بچھانے سے متعلق بات چیت کی۔

جی ایچ کیو کی عمارات تعمیر کا کام تو فوج خود کررہی ہے لیکن تجاوزات ہٹانے کا کام سی ڈی اے کے ذمہ ہے جو اس زمین کا مالک ادارہ ہے۔ اس کام میں اسے ایک سال یا اس سے بھی زیادہ مدت درکار ہوسکتی ہے۔

اس سال کے آخر تک سترھویں آئینی ترمیم کی رو سے صدر جنرل پرویز مشرف آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے کے پابند ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اسلام آباد میں بننے والے نۓ جی ایچ کیو میں پاکستان کی مضبوط ترین کرسی پر بیٹھنے والا پہلا شخص کون ہوگا اور فوج کے مرکز کی سول اداروں سے مکانی قربت کیا رنگ لاۓ گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد