BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 April, 2004, 11:10 GMT 16:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فوج میں کمی کا اعلان کافی نہیں‘

پچاس ہزار فوجی کم
پچاس ہزار فوجی کم کرنا ایسے ہے جیسے سمندر سے پانی کی بالٹی نکال دی جائے: اپوزیشن
پاکستان کی بری فوج کی تعداد پچاس ہزار کم کرنے اور فوجی افسران کی خدمت پر مامور اردلیوں کے بجائے کانٹریکٹ پر نئے سویلین ملازمین کی بھرتی کے فیصلوں پر حزب اختلاف کی جماعتوں نے ملا جلا رد عمل ظاہر کیا ہے۔

پاکستان پیلز پارٹی کے رہنما مخدوم امیں فہیم کا کہنا تھا کہ پچاس ہزار فوجی کم کرنا ایسے ہے جیسے سمندر سے پانی کی بالٹی نکال دی جائے۔ ان کا کہنا ہےکہ اصل مسئلہ فوجی اخراجات کم کرنے کا تھا جو کہ ایسے فیصلوں سے نہیں ہوگا۔

متحدہ مجلس عمل کے رہنما لیاقت بلوچ کی رائے تھی کہ ملکی دفاع کے لئے بھرتی کردہ فوجیوں کو بیٹ مین مقرر کر کے ان سے جوتے پالش کروانا اور دیگر کام لینا ٹھیک نہیں تھا لہٰذا وہ اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ جبکہ غیر فوجیوں کو افسران کی خدمت کے لئے بھرتی کرنے کے فیصلے پر ان کا کہنا تھا کہ اس کے بجائے افسران کی تنخواہ میں اضافہ کیا جائے اور انہیں ملازم خود رکھنے یا نہ رکھنے کی سہولت دی جائے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات صدیق الفاروق کا کہنا تھا کہ فوج سے چھوٹے ملازمین نہیں بلکہ جرنیل اور افسر کم کرنے چاہیے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ فوج کے ریٹائرڈ اور حاضر سروس افسر اتنی تعداد میں ہیں کہ سویلین ملازمتوں میں بھی بڑی تعداد میں انہیں مقرر کیا گیا ہے۔

صدیق الفاروق کا کہنا تھا کہ بیشتر سویلین اداروں میں فوجیوں کی تقرری کی وجہ سے ہی لوگ یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ ’ لوٹ کے لے گیا جی ایچ کیو، بھوکھے رہ گئے میں اور تو۔‘

انہوں نے کہا کہ ایک طرف پچاس ہزار فوج کم کرنے کی بات کی جا رہی اور ساتھ ہی ’بیٹ مین، کانٹریکٹ پر بھرتی کرنے کی بات ہو رہی ہے یو تو قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔

ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کمال متین الدین نے بتایا کہ فوجی افسران کی خدمت کے لئے فوجیوں کو بیٹ مین مقرر کرنے کی روایت برطانیہ سے آئی تھی جس کا مقصد افسر کی غیر موجودگی میں خاندان کے افراد کی سلامتی، وردی وغیرہ ٹھیک کرنا اور افسر کا ہاتھ بٹانا تھا۔ لیکن ان کے مطابق بیٹ مین مقرر کرنے کا منفی پہلو یہ تھا کہ وہ گھر کے دیگر کاموں میں زیادہ استعمال ہوتے رہے اور بنیادی مقصد تبدیل ہوگیا۔

سابق جرنیل نے بتایا کہ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ غیر فوجی بیٹ مین سے افسران کی کارکردگی پر کیا اثر ہوگا؟ تاہم ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج میں اب بھی تربیت یافتہ فوجیوں کو بیٹ مین مقرر کرنے کی روایت موجود ہے۔

فوج کی تعداد کم کرنے اور دیگر فیصلے فوجی ترجمان کے مطابق تنظیم نو کا حصہ ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سے فوج کی لڑنے کی قوت پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ یہ فیصلے صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں ہونے والے فارمیشن کمانڈرز کی کانفرنسں میں منگل کو کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد