’کب وردی اتاروں گا، پتہ نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ وہ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے ہیں کہ سال کے آخر تک آرمی چیف کے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں یا نہیں۔ ان کا بی بی سی ورلڈ کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں یہ بیان ان کے اس عہد سے بالکل مختلف ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وہ آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ کر صرف صدر کا عہدہ اپنے پاس رکھیں گے۔ ان کے اس بیان نے ملک کے سیاسی حلقوں کو حیران کر دیا ہے اور ان میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ ظفر عباس کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ ملک کی غیر یقینی سیاسی اور سیکیورٹی کی صورتِ حال کے پیشِ نظر صدر مشرف نے راستے کھلے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سال کے آغاز میں ان کے آرمی کا عہدہ چھوڑنے کے عہد کے بعد ہی انہیں اعتماد کا ووٹ ملا تھا۔ انہوں نے بی بی سی کے پروگرام میں یہ بھی اشارہ دیا کہ ہو سکتا ہے کہ اکتوبر تک وہ نئے آرمی چیف کا تقرر کریں۔ لیکن اس اشارے کو انہوں صرف ایک اندازہ کہا۔
انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں آرمی چیف، وائس چیف آف آرمی اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے عہدوں کی معیاد پوری ہوتی ہے اور ’یہ روایت ہے کہ ان اوقات کو تبدیل نہیں کیا جاتا‘۔ انہوں نے کہا کہ کچھ بھی فیصلہ کرنے سے پہلے بہت ساری چیزوں کو دیکھنا پڑتا ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق یہ ہی وقت ہو گا۔ وانا میں آپریشن کے متعلق ایک سوال میں جنرل مشرف نے کہا کہ اگرچہ آپریشن پوری طرح کامیاب نہیں تھا لیکن پھر کافی کامیابی ہوئی۔ ’ہم وہاں چھپے ہوئے القاعدہ کے سبھی اراکین کو پکڑنے میں ناکام رہے، لیکن ہم نے ان کے اڈے، ان کی پناہ گاہ اور ان کے آلات تباہ کر دیے۔، انہوں نے کہا کہ اب القاعدہ کے اراکین کافی حد تک کمزور ہو گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||