وردی پر نئی بحث | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں وزراء کے متضاد بیانات سے حکومتی حلقوں میں نئی بحث چل پڑی ہے کہ کیا واقعی صدر جنرل پرویز مشرف رواں سال کے آخر تک آرمی چیف اور صدر کے عہدوں میں سے کوئی عہدہ چھوڑ دیں گے؟ یہ بحث جمعہ نو اپریل کو وزیر داخلہ سید فیصل صالح حیات کی جانب سے دیے گئے اس بیان کے بعد شروع ہوئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر صدر نے وردی اتار دی تو ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوگا۔ انہوں نے صدر سے رواں سال کے آخر تک وردی اتارنے کے فیصلے پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ اس سے اگلے ہی روز ایک اور وزیر رضا حیات ہراج نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ جنرل مشرف کو رواں سال دسمبر تک آئین پاکستان کے تحت آرمی چیف اور صدر کے عہدوں میں سے ایک چھوڑنا ہوگا۔ فیصل صالح حیات اور رضاحیات ہراج دونوں پاکستان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے لیکن بعد میں پی پی پی (محب وطن) کے نام سے نیا گروپ بنا کر حکومت میں شامل ہوئے تھے۔ دونوں ایک ہی سیاسی گروپ میں ہیں لیکن جنرل مشرف کی وردی کے معاملے پر ان کی رائے مختلف ہے۔ وردی کے معاملے پر جاری بحث کے سلسلے میں تازہ بیان وزیر اعظم ظفراللہ جمالی نے اتوار گیارہ اپریل کو فیصل آباد میں دیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وردی کے معاملے پر جلد بازی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متحدہ مجلس عمل سے کیے گئے حکومتی معاہدے پر عمل ہورہا ہے۔ جنرل مشرف کے دونوں عہدے اختیار کرنے کی خواہش کی وجہ سے پارلیمنٹ میں حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان سال بھر جھگڑا رہا تھا۔یہ جھگڑا پاکستان میں قائم چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل اور حکومت میں سمجھوتے کے نتیجے میں طے پایا تھا۔ سمجھوتے کے بعد ستروہیں آئینی ترمیم پارلیمنٹ سے منظور کرائی گئی جس کے نتیجے میں جنرل مشرف کو دسمبر دو ہزار چار تک فوجی وردی میں آئینی صدر اس شرط پر تسلیم کیا گیا تھا کہ جنرل مشرف دی گئی مدت کے بعد ایک عہدہ چھوڑ دیں گے۔ گزشتہ سال بھر جنرل کی وردی پاکستانی سیاست کا سب سے بڑا مسئلہ بنی رہی اور کچھ خاموشی کے بعد پھر یہ ہی وردی موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ اس معاملے پر جب پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے جان بوجھ کر یہ معاملہ چھیڑا ہے۔ مجلس عمل کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ سیاسی طور پر یتیم وزراء جن کا مستقبل ان کے بقول موجودہ اقتدار کے بغیر تاریک ہے وہ نمبر بنانے کے لئے خوشامدی بیان دے رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ رواں سال دسمبر تک مشرف نے وردی نہ اتاری تو مجلس عمل تحریک چلائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||