پاکستانی فوج میں کمی کا فیصلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی بری فوج کی تنظیم نو کے سلسلے میں فوج کی تعداد پچاس ہزار کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ افسران کی خدمت پر مامور ’بیٹ مین، کو ان کے یونٹس میں واپس بھیجنے اور ان کی جگہ کانٹریکٹ پر ملازمیں بھرتی کرنے کے فیصلے بھی کئے گئے ہیں۔ یہ فیصلے صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں فارمیشنز کمانڈرز کی دو روزہ کانفرنس میں ہوئے جو منگل کے روز راولپنڈی میں ختم ہو گئی۔ پاکستان کی فوج کے ایک ترجمان ایک بیان میں کہا ہے کہ فوج کی تعداد کم کرنے سے ان کے لڑنے کی صلاحیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا بلکہ وہ پہلے سے بہی زیادہ طاقتور، فوج بن جائے گی اور اس سے حجم اور معیار میں بھی توازن قائم ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پچاس ہزار فوج کم ہونے سے جو رقم بچے گی وہ فوج کی کارکردگی بڑھانے کے لئے استعمال کی جائے گی۔ صدر مشرف نے جنگ کے لئے مخصوص افراد کو افسران کی خدمت پر مامور یا بیٹ مین مقرر نہ کرنے کی منظوری دی اور تمام کمانڈرز نے اتفاق کیا کہ اس وقت مقرر کردہ بیٹ مین رواں سال نومبر تک واپس متعلقہ شعبوں میں بھیج دیئے جائیں گے۔ جبکہ افسران کی خدمت گذاری کے طور پر نئے لوگ کانٹریکٹ پر ’ غیر لڑاکا خادم‘ (Non Combat Bearers (کیڈر میں بھرتی کئے جائیں گے۔ ترجمان کے مطابق فوجی کمانڈرز کو امکانی خطرے، تربیت اور آپریشنل تیاریوں اور فوج کی فلاح و بہبود کے متعلق مختلف تجاویز سے بھی آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر سینئر کمانڈرز نے بھارت کے ’ کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن‘ پر روشنی ڈالی اور پاک فوج کے جواب دینے کے آپشنز پر اطمینان ظاہر کیا۔ آخر میں صدر جنرل پرویز مشرف نے دیگر کمانڈرز کے ہمراہ اپنے طور پر تیار کردہ جدید اسلحے اور اوزاروں کی نمائش دیکھی۔ واضح رہے کہ لیفٹیننٹ کرنل اور کرنل کے عہدے سے برگیڈیئر کے عہدوں پر ترقی کے لئے سلیکشن بورڈ کا اجلاس بدھ اٹھائیس اپریل سے شروع ہوگا اور تیس اپریل کو سفارشات پیش کرے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||