معاشی مجبوریاں یا اصلاحات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان آرمی کی طرف سے منگل کے روز اپنی نفری میں پچاس ہزار کی کمی کا اعلان نہ تو کوئی حیران کن فیصلہ ہے اور نہ ہی یہ اچانک ہوا ہے۔ پاکستان کے دفاعی حلقوں میں کافی عرصے سے فوج میں اندرونی اصلاحات سے متعلق ایک بحث جاری تھی۔ اس بحث کا مرکزی خیال فوج کے بجٹ میں کوئی کمی نہیں بلکہ موجودہ بجٹ کا زیادہ موثر استعمال ہے یعنی فوج میں اندرونی تبدیلیوں کے ذریعے اس کی کارکردگی میں بہتری کی جا سکے۔ پاکستانی فوج کی ہائی کمان کی طرف سے حالیہ اعلان سے جو تبدیلیاں ہوں گی اس میں فوج کے جس ادارے پر براہ راست اثر پڑے گا وہ ہے برطانوی نو آبادیاتی دور کے اردلی یا بیٹ مین۔
پاکستان کی فوج دنیا کی ان بہت کم افواج میں سے ہے جس نے ابھی تک اردلی کے ادارے کو قائم رکھا ہوا ہے۔ حالیہ اعلان کے بعد آرمی کے افسران کی خدمت کے لئے مہیا کئے گئے اردلیوں کو واپس ان کے یونٹوں میں بھیج دیا جائے گا جبکہ ان کی جگہ افسران سویلین نوکروں کی خدمات حاصل کریں گے۔ اور اس سے بچنے والی رقم خود آرمی کی کارکردگی بہتر بنانے پر خرچ کئے جائیں گے۔
آزاد دفاعی ماہرین پاکستانی فوج کی طرف سے اس پیش رفت کو بہت محتاط انداز میں دیکھ رہے ہیں اور اسے بہت خوش آئند قرار نہیں دے رہے۔ اسلام آباد سے ایک دفاعی ماہر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں کسی بڑی سٹریٹیجی کا حصہ نہیں بلکہ محض آرمی کے بجٹ میں ہونے والے زیاں کو روکنے کے لئے کی جا رہی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابھی تک پاکستان آرمی کے جن شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے وہاں توجہ نہیں دی جارہی۔ دوسری طرف لاہور سے مبصر اور صحافی خالد احمد کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کی پروپیگینڈا کے حوالے سے اہمیت زیادہ ہے جبکہ اصل میں ان سے کچھ خاص فرق نہیں پڑے گا۔ یعنی بظاہر پاکستان آرمی یہ تاثر دے رہی ہے کہ وہ اندرونی اصلاحات کر رہی ہے جبکہ اصل میں اس سے آرمی کے بنیادی ڈھانچے میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ خالد احمد کا یہ بھی کہنا ہے کہ اردلیوں کو اپنے یونٹوں میں واپس بھیجنے کا طریقہ کار بھی واضح نہیں اور یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ افراد جنہیں بہت لمبے عرصے سے افسران کے گھریلو کام کاج کی عادت ہے اب باقاعدہ فوج میں کس طرح سرگرم ہو سکیں گے۔ پاکستانی فوج کے اندرونی کلچر پر ملک میں اکثر تنقید کی جاتی ہے اور اسے ایک غریب ملک کی شاہانہ فوج قرار دیا جاتا ہے۔ مشہور کالم نگار ایاز امیر کو اس بات پر بہت حیرانی ہے کہ پاکستانی فوجی افسران اب تک چھڑی کیوں رکھتے ہیں اور کلف لگا یونیفارم کیوں پہنتے ہیں جبکہ یہ سب روایات دنیا کی جدید فوجوں میں ختم ہوچکی ہیں۔ پاکستان آرمی کے سربراہ اور ملک کے صدر جنرل پرویز مشرف جس طرح سیاست اور معیشت کے فرنٹ پر اپنے آپ کو ایک جدت پسند رہنما کے طور پر ابھارنا چاہتے ہیں اسی طرح شاید وہ آرمی کے ادارے میں بھی جدید روایات کو متعارف کروانا چاہتے ہیں لیکن جدت کی اس پرواز کو وہ کہاں تک لے جانے میں کامیاب ہوتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||