پاکستانی فوج ميں سندھيوں کی بھرتی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھی زبان بولنے والے لوگو ں کو پاکستان کی فوج ميں بھرتی ہونے پر مائل کرنے کے لئے حيدرآباد کے بھرتی دفتر میں تعینات افسران نے بدھ کے روز مختلف اضلاع کے تحصيل ناظمين سے ملاقات کی ـ ليفٹيننٹ کرنل احمد شکيل نے ناظمين سے کہا کہ انہيں احساس ہے کہ فوج میں سندھيوں کی تعداد کم ہے اور اسی لئے وہ انہیں فوج کی طرف راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ميں جب بھی آ سامياں پیدا ہوتی ہیں تو انہيں سندھ کے ہی علاقوں سے پُر کیا جاتا ہے۔ سندھ ميں عام شکايت ہے کہ فوج ميں بھرتی کے لئے پنجاب کے لوگوں کو ترجيح دی جاتی ہے اور سندھیوں کی ہمت افزائی بھی نہیں کی جاتی ہے ـ ضلع مير پور خاص کی تحصيل میرپور خاص کے ناظم عنایت علی شاہ نے فوجی افسران کو بتایا کہ سندھ کے لوگوں ميں عام شکايت ہے کہ تربیت کے دوران ہی لوگوں کے ساتھ اتنا ترش رويہ اختيار کیا جاتا ہے کہ وہ واپسی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے جواب ٹیم کے رکن میجر عظیم نے کہا کہ ایسا ہر گز نہيں ہے بلکہ اب تو تربیت کے لۓ فوج میں سندھی زبان بولنے والے لوگوں کو ہی انسٹرکٹر بھی مقرر کر دیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو زبان کا مسئلہ بھی پيش نہ آئے ـ انہوں نے کہا کہ اب سندھی لوگوں نے فوج سے بھاگنا چھوڑ دیا ہے ـ ایک اور ناظم خدا بخش درس نے تجويز پیش کی کہ سندھ کے معاملے میں امیدواروں کو تعليم ، قد اور سینے کی چوڑائی کی شرا ئط میں رعایت دی جانی چا ہیے ـ جس کے جواب ميں میجر عظیم نے کہا کہ دسویں جماعت پاس ، ساڑھے پانچ فٹ قد اور پونے اکتیس انچ چوڑائی سینہ کی شرط پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتاـ ان کا کہنا تھا کہ فوج اب تیر اور نیزوں سے تو نہیں لڑتی بلکہ اب تو میزائل اور ٹینک کا دور ہے ـ اس دور میں آٹھ جماعت پاس شخص کو ٹینک اور میزائل چلانے کے بارے میں کس طرح پڑھایا جا سکتا ہے۔ صدر جنرل پرويز مشرف بھی سند ھ ميں اپنے دوروں کے دوران احکامات جاری کر چکے ہیں کہ سندھی زبان بولنے والوں کو بھرتی کرنے کے خصوصی اقدامات کۓ جائیں۔ میجر عظیم کا کہنا تھا کہ بھرتی کے عمل سے ہندو برادری کو بھی فائدہ پہنچا ہے اور اب انہيں بھی فوج میں شامل ہونے کا موقع مِل رہا ہے ـ پاکستان کی فوج میں تربیت کے دوران سپاہی کو اکیس سو روپے اور چھ ماہ کی تربیت مکمل کرنے کے بعد تین ھزار پانچ سو روپے ماھانہ تنخواہ کے طور پر دیۓ جاتے ہیں ـ والدین اور بیوی بچوں کا مفت علاج ، سفر ، کھانے اور رہائش کی سہولتیں اس کے علاوہ ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||