سندھ میں اساتذہ کی ہڑتال جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے پرائمری اساتذہ کی تنظیم پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن اور سیکنڈری اساتذہ کی تنظیم گورنمنٹ سیکنڈری ٹیچرز ایسوسی ایشن نے کلاسیں لینے سے انکار کردیا ہے اور پوری صوبے میں اساتذہ گزشتہ ایک ہفتے سے سراپا احتجاج ہیں- ان دنوں سندھ میں تعلیمی بورڈوں حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ کے نویں اور دسویں جماعتوں کے سالانہ امتحانات چل رہے ہیں جن کا اساتذہ نے بائیکاٹ کررکھا ہے- اس کے بعد ہزاروں طلبا اور طالبات چپراسیوں، کلرکوں، پٹواریوں کی نگرانی میں پرچے دے رہے ہیں- کئی مواقع پر بڑی دلچسپ صورتحال پیدا ہو جاتی ہے جب طالبعلم کسی سوال کی وضاحت کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں- نگرانی کرنے والے حضرات خود پریشان ہوجاتے ہیں جس کے بعد ان امیدواروں کو نقل کرنے کی اجازت دے دی جاتی ہے-
آٹھ سال کی پابندی کے بعد محکمہ تعلیم میں ہونے والی ان بھرتیوں میں اساتذہ اپنا حصہ اور کوٹہ مانگ رہے ہیں - اساتذہ کے دیگر مطالبات میں سلیکشن گریڈ دینا بھی شامل ہے- صوبائی وزیر تعلیم عرفان اللہ مروت کا کہنا ہے کہ وہ کسی صورت میں کسی کو کوٹہ نہیں دیں گے- ان کا دعویٰ ہے کہ وہ تمام بھرتیاں میرٹ کی بنیاد پر کرینگے- مسٹر مروت نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ اساتذہ کی تنظیموں کو سیاسی جماعتیں استعمال کرہی ہیں- دوسری جانب اساتذہ تعلیمی بائیکاٹ کے بعد سڑکوں پر نکل آئے ہیں، کلاسوں میں طلبا پر ڈنڈے برسانے والے یہ اساتذہ خود لاٹھی کی لپیٹ میں آگئے ہیں اور ان کا احتجاج پر تشدد کا سلسلہ ہے- لاڑکانہ میں جمعہ کے روز پولیس اور لیڈی ٹیچرز کے درمیاں جھڑپ ہوئی جس میں لیڈیز پولیس نے خواتین ٹیچرز کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا اور انہیں پکڑ کر موبائل گاڑیوں میں ڈال کر تھانے لے جایا گیا جبکہ ڈوکری شہر میں اساتذہ کے ایک گروپ نے بجلی کے پول پر چڑھ کر بجلی کا تار کاٹ دیا جس سے بجلی کی فراہمی منقطع ہوگئی- پولیس نے اساتذہ پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کا بھی استعمال کیا- اسی طرح سے جیکب آباد میں اساتذہ نے محکمہ تعلیم کے ایک افسر سے امتحانی پرچے چھیننے کی کوشش کی تو پولیس نے فائرنگ کی- اساتذہ نے تعلیمی افسر کے کپڑے تار تار کردیئے- خیرپور میں دو درجن سے زائد اساتذہ کے خلاف امتحانات میں رکاوٹیں ڈالنے کے الزام میں مقدمات درج کئے گئے ہیں- بدین میں پہلے روز چھ مراکز پر پرچے نہیں ہو سکے- شکارپور میں اساتذہ نے ایک ھیڈ ماسٹر کو امتحانات لینے پر تشدد کا نشانہ بنایا اور کلاس روم میں کالا تیل چھڑک دیا- وزیراعلی سندھ کے ضلع کے شہر میرپور ماتھیلو میں وزیر تعلیم کے پتلے کو نذر آتش کیا گیا- اس طرح سے مختلف شہروں میں ایک سو سے زائد اساتذہ کو گرفتار کیا جا چکا ہے- سیکنڈری استاذہ کی تنظیم صدر عبدالغنی کنبھر کا کہنا ہے کہ حکومت مسائل حل کرنے کے بجا مزید الجھا رہی ہےاور پرامن اساتذہ پر لاٹھیاں برسائیں جا رہی ہیں- پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد رفیق جروار اور محمد سچل نے صحافیوں کو بتایا کہ اساتذہ پندرہ مارچ سے سندہ کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں علامتی عدالتیں لگاکر صوبائی وزیر تعلیم عرفان مروت اور محکمہ کے افسران کو سزائیں سنائینگے- ان کا کہنا ہے کہ اگر بھرتیوں میں اساتذہ کے بچوں کے لئے کوٹے سمیت ان کے مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے تو اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینگے- اساتذہ نے اپنے احتجاج کے لئے امتحانات کا وقت چُنا لیکن احتجاج کے باوجود حکومت اساتذہ کا کوئی مطالبہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہے- واضح رہے کہ سندھ میں پہلی مرتبہ اساتذہ کی بھرتی کے لئے ایک سو روپے کے عوض درخواست فارم بنک سے جاری کیا گیا ہے- بنکوں میں یہ فارم کم مہیا کرنے کی وجہ سے بعض مقامات پر یہ فارم ایک سو کے بجائے پانچ سو روپے میں بھی فروخت کیا گیا۔ اساتذہ کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ محکمہ تعلیم نے ان فارموں پر بھی کمیشن لیا ہے- یہ امر قابل غور ہے کہ سندھ میں حکومت اپنے اتحادیوں کو خوش رکھنے کے لئے اتحادی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے ایم پی اے کو ملازمتوں کا کوٹا دیتی رہی ہے- سیٹیں کم ہونے کی وجہ سے اساتذہ کوحصہ نہیں ملتا- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||