BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 May, 2004, 04:44 GMT 09:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مجھ پر حملے میں فوجی ملوث تھے‘
پل پر حملہ
گزشتہ سال دسمبر میں صدر مشرف پر دو خطرناک حملے ہوئے تھے
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ گزشتہ سال راولپنڈی میں ان پر کئے گئے خود کش حملوں میں پاکستان فوج کے اہلکار بھی شامل تھے۔

پاکستان کے ایک نجی چینل جیو ٹی وی کی ویب سائیٹ پر جاری ہونے والی خبر کے مطابق ٹی وی کو ایک انٹرویو میں صدر نے کہا ہے کہ حملے میں پاکستان آرمی اور ایئرفورس کے جونیئر رینکنگ اہلکار ملوث تھے اور انہیں گرفتار کر کے اب ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق صدر نے کہا ہے کہ اس کارروائی میں فوج کے سینیئر اہلکار ملوث نہیں ہیں ’اس کا مجھے سو فیصد تو کیا دو سو فیصد یقین ہے‘۔ انہوں نے کہا ’کچھ لوگ ملٹری اور ایئر فورس کے یونیفارم میں ہیں، جونیئر سطح کے لوگ، جوکہ مجھ پر کیے گئے پہلے حملے میں براہ راست ملوث تھے‘۔

صدر کا کہنا ہے کہ راولپنڈی میں ہونے والے دوسرے حملے میں وہ براہ راست طور پر ملوث نہیں تھے۔

صدر مشرف نے کہا کہ ’ہم نے مکمل تحقیقات کی ہیں، ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس کارروائی میں کون ملوث ہے، اب ہمارے سامنے تصویر واضح ہو چکی ہے، ہم ملوث افراد کے نام، چہرے، شناخت، ان کے خاندان حتیٰ کے ان کے بارے میں سب جانتے ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ حملوں میں استعمال ہونے والا دھماکہ خیز مواد قبائلی علاقوں سے ملتان اور پھر وہاں سے اسلام آباد لایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا حکومت کو معلوم ہے کہ حملوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کیسے کیا گیا۔

اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق جنرل مشرف نے ان کے ملوث ہونے کی تفصیل بتائے بغیر کہا کہ ان پر مقدمہ تو فوجی عدالت میں چلے گا لیکن کارروائی کو اوپن رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس حملے کے ماسٹر مائنڈ یا سرغنہ ابھی تک مفرور ہیں اور انہیں گرفتار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ صدر کے الفاظ میں اس حملے کا ماسٹر مائنڈ ’نہایت چالاک‘ ہے۔

انہوں نے کہا کہ گروہ کا سرغنہ ایک پاکستانی ہے۔ تاہم انہوں نے اس کا نام بتانے سے اجتناب کیا۔

نامہ نگار کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ صدر نے حملے میں فوج کے ملوث ہونے کی بات کی ہے اس سے قبل قبائلی علاقوں میں چھپے غیرملکیوں پر ہی حملے کے شبہے کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

اس سال مارچ میں صدر مشرف نے کہا تھا کہ ان پر حملے میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والا ایک لیبیائی شخص ملوث تھا۔

انہوں نے اس شخص کا نام تو نہیں بتایا البتہ ان کا کہنا تھا کہ اس شخص نے ان پر حملوں کے لئے انتہا پسندوں کو پندرہ سے بیس لاکھ روپے کی رقوم دی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس شخص کے رابطہ کار کوگرفتار کر لیا گیا ہے اور جلد اسے بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔

صدر مشرف گزشتہ برس دسمبر میں دس روز کے وقفے سے دو قاتلانہ حملوں میں بال بال بچے تھے۔

صدر مشرف
صدر نے القاعدہ کے بارے میں مزید معلومات بھی عوام کے سامنے لانے کا وعدہ کیا تھا

صدر نے ان افراد کے بارے میں مزید معلومات بھی سرکاری ٹی وی کے ذریعے عوام کے سامنے لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس انٹرویو میں فوج کے جوانوں کے ملوث ہونے کی بات کی گئی ہے۔

رائیٹرز کے مطابق پاکستان کے ملٹری ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ ان حملوں میں ملوث فوجی اہلکاروں کی تعداد کتنی ہے تاہم انہوں نے کہا ’یہ تعداد دس سے کم ہے۔ ان میں سے کوئی بھی آفیسر رینک کا نہیں ہے‘۔

صدر مشرف نے جیو ٹی وی کو بتایا کہ ’جو لوگ براہ راست ملوث ہیں ان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور جو بالواسطہ ملوث ہیں ان پر نظر رکھی جا رہی ہے‘۔

صدر مشرف نے یہ بھی کہا ہے کہ مشتبہ افراد کے عزائم کا کوئی ’مذہبی مقصد‘ نہیں تھا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد