BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 February, 2005, 09:30 GMT 14:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
متوفی کا قرض ورثاء کا ذمہ نہیں

لاہور ہائی کورٹ
مالیاتی ادارے ڈرادھمکا کر اور زبردستی کرکے واجب الادا قرضہ وصول نہیں کر سکتے
لاہور ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ مقروض کی وفات کی صورت میں بنک اور مالیاتی ادارے اس کے ورثاء سے قرضہ کی رقم وصول نہیں کرسکتے۔

اس فیصلے کے مطابق کوئی وارث اپنے متوفی والد کے قرضہ کی ادائیگی کا ذاتی طور پر ذمہ دار نہیں ہوگا۔

ہائی کورٹ کے جج جسٹس میاں حامد فاروق نے ساہیوال کے نذیر احمد کی رٹ درخواست منظور کرتے ہوئے ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کو حکم دیا کہ وہ درخواست گذار سے اس کے مرحوم والد کے قرضہ کی مد میں آٹھ سال پہلے وصول کی جانے والی پچاس ہزار روپے کی رقم واپس کرے۔

جج نے کہا کہ مالیاتی ادارے ڈرادھمکا کر اور زبردستی کرکے واجب الادا قرضہ وصول کریں گے تو یہ غیرقانونی قدم ہوگا اور ان اداروں کو یہ رقم متعلقہ شخص کو واپس کرنا ہوگی۔

تاہم عدالت عالیہ نے کہا کہ مالیاتی ادارے مرنے والے کی رہن شدہ جائیداد کو بیچ کر قرضہ کی رقم وصول کرسکتے ہیں لیکن اس کے لیے انہیں قانونی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

عدالت عالیہ نے یہ بھی کہا کہ مالیاتی ادارے کسی مقروض کے ضامن سے اس کے بیان حلفی کی بنیاد پر بھی رقم وصول کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ جج نے کہا کہ ضامن ایسے بیان حلفی سے منحرف ہوجائے تو اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔

عدالت کے حکم کے مطابق کسی ضامن سے صرف اسی صورت میں قرضہ کی رقم بازیاب کرائی جاسکتی ہے جب اس نے دستاویزاتی ضمانت جاری کی ہو جس میں اس نے واضح کیا ہو کہ مقروض نے متعلقہ رقم واپس نہ کی تو وہ متعلقہ رقم واپس کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد