BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 January, 2005, 13:11 GMT 18:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صارفین کے حقوق کا قانون منظور

News image
پنجاب اسمبلی نے پہلی مرتبہ صارفین کے حقوق کے تحفظ کا قانون پاس کیا ہے۔
پننجاب اسمبلی نے صارفین کے حقوق کے تحفظ کا قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت اب صارفین ناقص اشیا بنانے والوں سے ہرجانہ وصول کر سکیں گےاوراس کے علاوہ ناقص اشیاءاور خدمات فراہم کرنے والے کو دو سال تک قید اور جرمانے کی سزا دی جاسکے گی۔

ہرجانے کے تعین اور سزاؤں کے لیے صوبے کے تمام اضلاع میں صارفین عدالتیں قائم کی جائیں گی۔

پنجاب اسمبلی سے جمعرات کی شب منظور ہونے والے اس نئے قانون کے تحت تیار کنندہ صارف کے اس نقصان کی تلافی کا ذمہ دار ہوگا جو اس کی مصنوعات میں کسی نقص کے نتیجے میں واقع ہو۔

صعنت کار صارف کو مناسب تنبیہ دینے میں ناکامی کی صورت میں بھی گناہ گار گردانا جائے گا۔

تاجر اس بات کے پابند ہونگے کہ صارین کو قیمتوں کی فہرست فراہم کریں یا مصنوعات کی فہرست جائے کاروبار پر نمایاں آویزاں کریں اور ہر فروخت ہونے والی چیز کی باقاعدہ رسید جاری کریں۔

اس قانون کا اطلاق ایسے افراد اور اداروں پر بھی ہوگا جو خدمات فراہم کرتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ہی اس قانون میں فریقین کو یہ آسانی بھی فراہم کی گئی ہے کہ اگر کاروباری ادارہ یا افراد متاثرہ صارف کو کسی طریقہ سے مطمئن کر لے یا اس کو از خود ہرجانہ دیکر سے راضی کر لے تو عدالت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا اور فریقین مقدمہ واپس لے سکیں گے۔

لیکن اگر آپس میں راضی نامہ نہ ہوسکا تو مجرم قرار دیے جانے والے فریق کو متاثرہ صارف کے عدالتی اخراجات اور وکیل کی فیس بھی ادا کرنا ہوگی۔

اس کے علاوہ صوبے میں ایک کنزیومر پروٹیکشن کونسل (تحفظ صارفین کونسل) قائم کی جائے گی جبکہ حکومت اپنی مرضی کے مطابق مختلف اضلاع میں بھی تحفظ صارفین کونسل قائم کر سکے گی۔

یہ کونسلیں عام صارفین کے حقوق کا دفاع کرنے کےلیے متعلقہ معاملات پر نظر رکھیں گی اور اپنے دائرہ اختیار کے مطابق کارروائی کریں گی۔

صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے ایوان کو بتایا کہ دنیا کے مختلف ترقی یافتہ ممالک میں صارفین کے حقوق کے لیے قوانین موجود ہیں لیکن پاکستان میں عام صارف کے حقوق کے لیے پہلی بار اس طرح کا باقاعدہ قانون سازی کی گئی ہے۔

ایوان میں ڈپٹی قائد حزب اختلاف رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ اس قانون میں گراں فروشوں کے خلاف کارروائی کا کوئی ذکر نہیں ہے اور گراں فروشی کے خلاف پہلے سے جو قانون موجود ہے اس پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا انہوں نے کہا کہ ایسے قوانین بنانے کا کیا فائدہ جن پر صیح طریقے سے عملدرآمد نہ کیا جائے۔

لاہور چمبر آف کامرس کے نائب صدر شیخ رشید نے کہاکہ یہ ایک اچھی کوشش ہے لیکن پہلے سے موجود کاپی رائٹس ایکٹ جیسے قوانین پر عملدرآمد بھی ضروری ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہماری مارکیٹیں جعلی اشیاء سے بھری پڑی ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ایسے میں کسی جعلی شے کی بنیاد پر کسی اصلی مینوفیکچر کو سزا بھی ہو سکتی ہے۔

ایک غیر سرکاری تنظیم پاکستان کمشن براۓ حقوق صارفین کے صوبائی رابطہ کار عامر اعجاز نے کہا کہ صارفین کے حقوق کی جانب ایک اچھا قدم تو ہے لیکن اس میں کئی خامیاں ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ صارفین سے زیادہ تیار کنندہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے قیمتوں کو مارکیٹ کی قوتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

اس قانون کے مطابق اگر مینوفیکچر کی ناقص چیز سے صارف کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تو صارف کو ہرجانہ نہیں صرف اصل رقم واپس ملے گی اسی طرح اگر مینو فیکچر یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوگیا کہ اس نے کم علمی کی وجہ سے ناقص شے بنائی ہے تو تب بھی وہ بری الذمہ ہوجائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد