وٹہ سٹہ کی شادی بھی جرم ہوگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی کی قانون،انصاف اور انسانی حقوق کی متعلق قائمہ کمیٹی کے چیرمین نے’کارو کاری، شادی یا صلح کے بدلے لڑکی بیاہنے، زنا اور توہین رسالت کے متعلق ضابطہ فوجداری اور تعزیرات پاکستان میں ترامیم کے متعلق بل پر رپورٹ جمعرات کے روز ایوان میں پیش کی ہے ۔ کمیٹی کے چیئرمین نے مجموعہ تعزیرات پاکستان 1860 اور مجموعہ ضابطہ فوجداری 1898 میں ترمیمی بل 2004 کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔ ترمیمی بل پر کمیٹی کی رپورٹ میں غیرت کے نام پر قتل کرنے والے کی کم سے کم سزا سات اور زیادہ سے زیادہ پچیس برس قید بامشقت کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ کارو کاری کے متعلق ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ اس قانون کے اطلاق کے لیے شرط یہ ہے کہ جہاں کسی جرم کا ارتکاب عزت کے نام پر کیا گیا ہے تو ایسے جرم کو بھی ان شرائط پر معاف کیا جاسکے گا یا مصالحت کی جا سکے گی، جنہیں عدالت مقدمے کے حقائق اور حالات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے فریقین کی رضا مندی سے عائد کرنا موزوں خیال کرتی ہے،۔ بل کے مطابق کارو کاری کے الزام میں قتل کے مرتکب ملزم کو ملنے والی سزا معطل یا معاف کرنے کا اختیار صوبائی حکومت کو حاصل نہیں ہوگا۔ حزب اختلاف کے رکن اعتزاز احسن نے، جو کہ اس کمیٹی کے رکن بھی ہیں، بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کی رپورٹ کے بارے میں انہیں تحفظات ہیں۔انہوں نے کہا کہ محض سزا بڑھانا مسئلے کا حل نہیں۔ان کے مطابق قاتل کو معافی ملنے کی شق اس قانون میں نہیں ہونی چاہیے۔ اس ترمیمی بل کے ذریعے مجموعہ تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری میں ترمیم کرتے ہوئے تجویز کیا گیا ہے کہ توہین رسالت کے الزام یا زنا کے جرم کی ’ملزمہ، کے خلاف مقدمے کی تفتیش کم سے کم سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدے کا افسر کرے گا۔ اس ترمیمی بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ زنا کے الزام کے تحت عدالت کی اجازت کے بغیر پولیس کسی عورت کوگرفتار نہیں کر سکے گی۔ اس ترمیمی بل کے مطابق کسی خاتون کو شادی کے بدلے یا صلح کے بدلے میں دینے والے کو پانچ سے دس برس تک قید کی سزا ملے گی۔ ان جرائم کی سماعت سیشن کورٹ کرے گی۔ اس ترمیم سے حکومت کا دعویٰ ہے کہ وٹہ سٹہ اور ونی کی فرسودہ رسومات کا خاتمہ کیا جا سکے گا۔یہ بل فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ جمعرات کی صبح قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو حزب اختلاف کے رہنماؤں راجا پرویز اشرف، لیاقت بلوچ اور دیگر نے صدر کے دو عہدوں کے متعلق بل کی منظوری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت پر کڑی نکتہ چینی کی تو سپیکر نے انہیں بولنے کی اجازت نہیں دی۔ جس پر حزب اختلاف کے تمام اراکین گو مشرف گو کے نعرے لگاتے ہوئے نشستیں چھوڑ کر سپیکر کے روسٹرم کے سامنے جمع ہوئے اور کچھ دیر بعد ایوان سے باہر چلے گئے۔یاد رہے کہ حزب اختلاف کا اس طرح کا احتجاج ایک ہفتے سے جاری ہے۔ حزب اختلاف کی غیر موجودگی میں حکومت نے کارروائی جاری رکھی۔ ایک توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں وزیر صحت محمد نصیر خان نے میڈیکل کے طلباء کو خبردار کیا کہ وہ جعلی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز میں داخلہ نہ لیں ورنہ انہیں سندیں نہیں ملیں گیں۔ بعض حکومتی اراکین نے وزیر پر زورد دیا کہ حکومت طلباء کو خبردار کرنے کے بجائے جعلی کالجز کے خلاف کارروائی کرے اور غریب و معصوم طلباء کا مستقبل تباہ ہونے سے بچائے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی صبح نو بجے تک ملتوی کردیا گیا ہے۔ جمعہ کو سپیکر چودھری امیر حسین کے خلاف حزب مخالف کی پیش کردہ تحریک عدم اعتماد پر کاروائی ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||