کاروکاری قتل تصور ہو گا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی نے ایک بِل منظور کیا ہے جس کے تحت کاروکاری کی زیادہ سے زیادہ سزا موت ہو سکتی ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیر افگن نیازی نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کے پیش کردہ اس بل میں کارو کاری کے الزام کے تحت قتل کی کم سے کم سزا دس برس جبکہ زیادہ سے زیادہ پچیس برس تک قید بامشقت یا سزائے موت رکھی گئی ہے۔ حکومت نے قومی اسمبلی سے منگل کے روز غیرت کے نام پر قتل یعنی کارو کاری، شادی یا صلح کے بدلے لڑکی بیاہنے، زنا اور توہین رسالت کے متعلق ضابطہ فوجداری اور تعزیرات پاکستان میں ترامیم کے متعلق بل منظور کرالیا ہے۔ منگل کو ایوان میں نجی کاروائی کا دن ہوتا ہے اور پارلیمانی روایات کے مطابق حکومت قانون سازی کے لیے بل پیش نہیں کرتی اور زیادہ تر حزب اختلاف اور بعض سرکاری بینچوں کے اراکین نجی طور پر قانون سازی کے لیے بل پیش کرتے ہیں۔ حکومت نے ان روایات کے برعکس قواعد معطل کرتے ہوئے ایجنڈے کے دیگر چودہ نکات کو صرفِ نظر کرتے ہوئے اس بل کو منظور کرایا۔ اِن نئی ترامیم کا مقصد حکومت کے مطابق تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری پاکستان میں ترمیم کرکے غیرت کے نام پر قتل کے ملزم کی سزا سخت کرنا، مرضی کے بغیر عورت کی شادی کرانے والے کو سزا دینا، حدود آرڈیننس کے تحت عورت کے خلاف مقدمہ داخل ہونے اور توہین رسالت کے قانون کے تحت قائم ہونے والے مقدمات کی تفتیش سپرٹنڈنٹ پولیس کے عہدے والے افسر سے کرانا ہے۔ اس ترمیمی بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ زنا کے الزام کے تحت عدالت کی اجازت کے بغیر پولیس کسی عورت کوگرفتار نہیں کر سکے گی۔ بل کے مطابق کسی خاتون کو ان کی مرضی کے بغیر شادی کے بدل میں بیاہنا(وٹہ سٹہ کی رسم) یا صلح کے بدلے (ونی کی رسم) میں دینے والے کو تین سے دس برس تک قید کی سزا ملے گی۔ ان جرائم کی سماعت سیشن کورٹ میں ہوگی۔ اس بل سے حزب اِختلاف کی جماعتیں متفق نہیں اور حکومت پر ناقص قانون سازی کا الزام لگا رہی ہیں۔ حزب اختلاف کے رہنما اعتزاز احسن کے مطابق اس بل کی سب سے بڑی خرابی مقتول کے ورثاء کی جانب سے قاتل کو معاف کرنے کا حق دینا ہے جس سے قاتل سزا سے بچ جائیں گے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ فرض کریں کہ کسی لڑکی کو پسند کی شادی کرنے یا کارو کاری کے الزام کے تحت تین بھائی قتل کا منصوبہ بناتے ہیں اور ایک بھائی قتل کرے گا اور دوسرے انہیں خون بخش دیں گے اور قاتل سزا سے بچ جائے گا۔ اعتزاز کے مطابق کارو کاری میں خاندان کے قریبی افراد ملوث ہوتے ہیں اور معافی کی اس گنجائش کی وجہ سے سزا میں اضافے سے فرق نہیں پڑے گا۔ حکومت اب یہ بل ستائیس اکتوبر سے شروع ہونے والے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کرے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||