ٹوبہ ٹیک سنگھ: غیرت کےنام پر قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نواح میں محبت کی شادی کرنے والے نوجوان کو اس کےایک رشتہ دار سمیت پٹری سے باندھ کرٹرین کے نیچے دے کر قتل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق قتل ہونے والے شخص کی بیوی طلعت ابھی تک لاپتہ ہے اور اس کی جان کو بھی خطرہ ہے۔ پولیس نے یہ بھی کہا ہے کہ دہرے قتل کی یہ واردات غیرت کے نام پر قتل کی ہے۔ مقتولین کی کچلی ہوئی لاشیں منگل کو ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نواحی علاقے گوجرہ کے نزدیک ٹرین کی پٹٹری پر پڑی ملیں۔ مقتول وحید کے والد غلام حسین نے پولیس کو بیان دیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ان کے بیٹے وحید نے دس ماہ قبل طلعت سے محبت کی شادی کی تھی جس کے بعد سے دونوں گھر چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ بعدازاں ان کی بظاہر لڑکے کی لڑکی والوں کے اہلِ خانہ سے صلح ہوگئی لیکن لڑکی کے بھائی الیاس کے دل میں رنج تھا۔پیر کو اُس نے بہانے سے میاں بیوی اور ان کے رشتہ دار محمد حسین کو بلایا اور اپنے ایک کزن عباس کی مدد سے تینوں کو اغوا کر لیا۔ منگل کی صبح ملزمان نے وحید اور اس کے بہنوئی الیاس کو زندہ ٹرین کی پٹٹری پر باندھ دیا اور شور کوٹ سے فیصل آباد جانے والی ٹرین نے ان کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔ تھانہ صدر گوجرہ کے انچارج حافظ عمران نے بی بی سی کو بتایا کہ وحید کے والد کے بیان پر الیاس اورعباس کے علاوہ ان کے والدین اور دیگر رشتہ داروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے لیکن ابتدائی تفتیش کے مطابق دہرے قتل کی اس واردات میں دو ملزم ہی ملوث ہیں۔ آخری اطلاعات آنے تک طلعت لاپتہ تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نہ اس کی لاش ملی ہے اور نہ اس کا کوئی سراغ ہی مِلا ہے۔ ملزم اور اس کا پورا خاندان بھی لاپتہ ہے۔ پاکستان میں ہر سال سینکڑوں افراد کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے تاہم بیشتر مقتولین خواتین ہوتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||