غیرت کے نام پر قتل: بل منظور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے قومی اسمبلی سے منگل کے روز غیرت کے نام پر قتل یعنی کارو کاری، شادی یا صلح کے بدلے لڑکی بیاہنے، زنا اور توہین رسالت کے متعلق ضابطہ فوجداری اور تعزیرات پاکستان میں ترامیم کے متعلق بل منظور کرالیا ہے۔ منگل کو ایوان میں نجی کاروائی کا دن ہوتا ہے اور پارلیمانی روایات کے مطابق حکومت قانون سازی کے لیے بل پیش نہیں کرتی اور زیادہ تر حزب اختلاف اور بعض سرکاری بینچوں کے اراکین نجی طور پر قانون سازی کے لیے بل پیش کرتے ہیں۔ حکومت نے ان روایات کے برعکس قواعد معطل کرتے ہوئے ایجنڈے کے دیگر چودہ نکات کو صرفِ نظر کرتے ہوئے اس بل کو منظور کرایا۔ منگل کو اجلاس شروع ہوا تو حزب اختلاف کے رکن تسنیم احمد قریشی نے کورم کی نشاندہی کی اور سپیکر چودھری امیر حسین نے گنتی کرانے کے بعد کورم پورا ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کاروائی شروع کی۔ کاروائی شروع ہوئی تو حزب اختلاف کے اراکین جو لابیوں میں موجود تھے وہ ایوان میں آگئے۔ لیاقت بلوچ نے نکتہ اعتراض پر صدر کے دو عہدوں کے متعلق بل کی منظوری کے خلاف اور حزب اختلاف کے رہنما جاوید ہاشمی جنہیں حکومت کی جانب سے قائم کردہ بغاوت کے مقدمے میں سزا ہوچکی ہے ان کی گرفتاری کا ایک سال پورا ہونے کا معاملہ اٹھایا تو سپیکر نے انہیں بات کرنے سے روک دیا۔ حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کے اراکین نے اس پر سخت احتجاج کیا اور’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگاتے ہوئے سپیکر کے روسٹرم کے آگے جمع ہوگئے۔ سپیکر انہیں اپنی نشستوں پر جانے کا کہتے رہے لیکن ان کی کسی نے نہیں سنی۔ سپیکر نے حافظ حسین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سپیکر کو پیٹھ دے کر نعرے بازی نہ کرائیں لیکن خافظ حسین احمد اور پیچھے ہٹتے ہوئے سپیکر کو پیٹھ دکھاتے رہے۔ حزب اختلاف کے اس رویہ کا سپیکر نے سخت نوٹس لیتے ہوئے انہیں متنبہ کیا کہ قواعد کے مطابق ایوان کے اندر غیر پارلیمانی انداز میں احتجاج کرنا اور نعرے بازی کرنا جرم ہے اور وہ اس معاملے پر حزب اختلاف کے خلاف قانونی کاروائی کرسکتے ہیں۔ حزب مخالف سپیکر کی اس دھمکی کی کچھ دیر بعد بھی نعرے لگاتے رہے اور حسب معمول ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اسمبلی ہال سے باہر چلے گئے۔ یاد رہے کہ جب سے صدر کے دو عہدوں کے متعلق بل اسمبلی سے منظور ہوا ہے اس دن سے حزب اختلاف ہر روز ایسا ہی کرتی ہے اور کارروائی میں حصہ نہیں لیتی۔ اپوزیشن کی غیر موجودگی میں حکومت نے قواعد معطل کر کے اسمبلی کی کارروائی جاری رکھی اور بل منظور کرا لیا۔ اِن نئی ترامیم کا مقصد حکومت کے مطابق تعذیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری پاکستان میں ترمیم کرکے غیرت کے نام پر قتل کے ملزم کی سزا میں اضافہ کرنا، مرضی کے بغیر عورت کی شادی کرانے والے کو سزا دینا، حدود آرڈیننس کے تحت عورت کے خلاف مقدمہ داخل ہونے اور توہیں رسالت کے قانون کے تحت قائم ہونے والے مقدمات کی تفتیش سپرٹنڈنٹ پولیس کے عہدے والے افسر سے کرانا ہے۔ اس ترمیمی بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ زنا کے الزام کے تحت عدالت کی اجازت کے بغیر پولیس کسی عورت کوگرفتار نہیں کر سکے گی۔ بل کے مطابق کسی خاتون کو ان کی مرضی کے بغیر شادی کے بدل میں بیاہنا(وٹہ سٹہ کی رسم) یا صلح کے بدلے (ونی کی رسم) میں دینے والے کو پانچ سے دس برس تک قید کی سزا ملے گی۔ ان جرائم کی سماعت سیشن کورٹ میں ہوگی۔ حکومت کے پیش کردہ اس بل میں کارو کاری کے الزام کے تحت قتل کی سزا تو بڑھائی جا رہی ہے لیکن نہ اسے ’قتل عمد‘ قرار دیا جا رہا ہے اور نہ ہی قاتل کو مقتول کے ورثاء کی جانب سے معاف کرنے کی صورت میں سزا سے بچنے کی گنجائش ختم کی جا رہی ہے۔ اس بل سے حزب اِختلاف کی جماعتیں متفق نہیں اور حکومت پر ناقص قانون سازی کا الزام لگا رہی ہیں۔ عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور انسانی حقوق کے ادارے بھی حکومت کے اس بل پر نکتہ چینی کرتے ہوئے اس بل کو ’نمائشی قانون‘ قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان کے بیشتر اخبارات نے اس بل کو چند روز قبل قومی اسمبلی میں پش کیے جانے کے بعد اپنے اداریوں میں سخت تنقید کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ کارو کاری کے خاتمے کے لیے موثر قانون سازی کریں۔ حکومت اب یہ بل ستائیس اکتوبر سے شروع ہونے والے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کرے گی۔ سپیکر قومی اسمبلی نے منگل کے روز حزب اختلاف کے خلاف ان کے مبینہ توہیں آمیز رویہ اور احتجاج کے متعلق حکومت کی جانب سے پیش کردہ دو تحاریک استحقاق ایوان کی متعلقہ قائمہ کمیٹی کو کاروائی کے لیے بھیجنے کی منظوری دیتے ہوئے اجلاس کی کاروائی غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی گئی ہے۔ واضح رہے کہ قائمہ کمیٹی حزب اختلاف کے احتجاج کرنے والے اراکین کی رکنیت معطل کرنے کی سفارش بھی کرسکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||