وٹہ سٹہ، غیرت کے قتل، ترامیم مؤخر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں قومی اسمبلی میں پیر کے روز حکومت کے لیے ایک بار پھر کورم پورا کرنا مسئلہ بنا رہا اور تین بار کورم کی وجہ سے سپیکر کو اجلاس کی کارروائی مؤخر کرنی پڑی۔ حکومت اپنی مکمل کوششوں کے باوجود بھی کارو کاری، شادی یا صلح کے بدلے لڑکی بیاہنے، زنا اور توہین رسالت کے متعلق ضابطہ فوجداری اور تعزیرات پاکستان میں ترامیم کے متعلق بل منظور نہ کراسکی ۔ اِن نئی ترامیم کے تحت غیرت کے نام پر قتل کرنے والے کو کم سے کم سات اور زیادہ سے زیادہ پچیس برس تک قید بامشقت کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ حکومت کے پیش کردہ اس بل میں کارو کاری کے الزام کے تحت قتل کی سزا تو بڑھائی جا رہی ہے لیکن نہ اسے ’قتل عمد‘ قرار دیا جا رہا ہے اور نہ ہی قاتل کو مقتول کے ورثاء کی جانب سے معاف کرنے کی صورت میں سزا سے بچنے کی گنجائش ختم کی جا رہی ہے۔ اس بل سے حزب اِختلاف کی جماعتیں متفق نہیں اور حکومت پر ناقص قانون سازی کا الزام لگا رہی ہیں۔ عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور انسانی حقوق کے ادارے بھی حکومت کے اس بل پر نکتہ چینی کرتے ہوئے اس بل کو ’نمائشی قانون‘ قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان کے بیشتر اخبارات نے اس بل کو چند روز قبل قومی اسمبلی میں پش کیے جانے کے بعد اپنے اداریوں میں سخت تنقید کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ کارو کاری کے خاتمے کے لیے موثر قانون سازی کریں۔ پیر کے روز مقررہ وقت صبح گیارہ بجے سے آدھا گھنٹہ تاخیر سے جب اجلاس شروع ہوا تو ایوان میں حکومت نیز حزب اختلاف کے اراکین خاصی کم تعداد میں موجود تھے۔ تلاوت کے بعد سپیکر چودھری امیر حسین نے کارروائی شروع کرنا چاہی تو حزب مخالف کے رکن میاں محمد اسلم نے کورم کی نشاندہی کردی اور کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے کارروائی مؤخر کردی گئی۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد جب دوبارہ اجلاس شروع ہوا تو کورم کا معاملہ ایک بار اٹھایا گیا اور وزیر قانون وصی ظفر کی حزب اختلاف کے اراکین کے ساتھ گرما گرمی بھی ہوئی۔ ایک موقع پر انہوں نے حزب مخالف سے کہا کہ کورم پورا ہے آپ گنتی کریں اگر کورم پورا نہ ہوا تو وہ مستعفی ہوجائیں گے، بصورت دیگر انہوں نے حزب اختلاف سے کہا کہ وہ استعفیٰ دے دیں۔ سپیکر نے کارروائی جاری رکھی لیکن حزب مخالف کے ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگانا شروع کردیئے اور ڈیسک بھی بجاتے رہے۔ کچھ دیر بعد حزبِ اختلاف کے اراکین کارروائی کا بائیکاٹ کرکے ایوان سے باہر چلے گئے۔ یاد رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے پاس دو عہدوں کے متعلق جب سے حکومت نے بل منظور کرایا ہے اس دن سے حزب اختلاف کے ارکان یا تو کورم کی نشاندہی کرکے اجلاس کی کارروائی میں خلل ڈالتے ہیں یا پھر احتجاج کرتے ہوئے نعرے لگا کر کارروائی کا بائیکاٹ کردیتے ہیں۔ پیر کو دوسری بار حزب مخالف کے رکن اسمبلی چودھری منظور جبکہ تیسری بار شیری رحمٰن کی نشاندہی پر کورم کی وجہ سے اجلاس مؤخر کیا گیا۔ حکومت خلاف توقع سہ پہر تین بجے تک اجلاس کا وقت بڑھانے کے باوجود بھی کارو کاری کے متعلق سزا کا بل منظور نہیں کرا سکی اور مجبور ہوکر ڈپٹی سپیکر کو کارروائی منگل تک ملتوی کرنی پڑی۔ حکومت کی کوشش ہوگی کہ منگل کو کارو کاری کے متعلق بل منظور کرایا جائے تاکہ ستائیس اکتوبر سے شروع ہونے والے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں یہ بل پیش کیا جاسکے۔ اجلاس ملتوی ہونے کے بعد حزب اختلاف کے سرکردہ رہنماؤں لیاقت بلوچ، راجہ پرویز اشرف اور تہمینا دولتانہ نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ چالیس سے ساٹھ کے لگ بھگ حکومت کے حامی اراکین حکومت کے بلانے کے باوجود بھی کورم پورا کرنے کے لیے اجلاس میں نہیں آتے کیونکہ ان کے بقول وہ اراکیں وزیر نہ بنائے جانے اور دیگر کام نہ ہونے کی وجہ سے حکومت سے ناراض ہیں۔ حزب اِختلاف کے ان رہنماؤں کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ حکمران مسلم لیگ میں صدر مشرف کی وجہ سے مختلف خیالات کے لوگ مجبوراً اکٹھے ہوئے ہیں لیکن اب حکمران جماعت میں پھوٹ پڑ چکی ہے اور ان کے اختلافات کورم پورا نہ کرنے کی صورت میں واضح ہو رہے ہیں۔ حکومت اس دعوے کو مسترد کرتی رہی ہے۔یاد رہے کہ حکومت کے حامی اراکین کی تعداد 195 سے زائد ہے اور کورم کے لیے 86 اراکین کا موجود رہنا ضروری ہے۔ اس ترمیمی بل کے ذریعے مجموعہ تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری میں ترمیم کرتے ہوئے تجویز کیا گیا ہے کہ توہین رسالت کے الزام یا زنا کے جرم کی ’ملزمہ‘ کے خلاف مقدمے کی تفتیش کم سے کم سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدے کا افسر کرے گا۔ اس ترمیمی بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ زنا کے الزام کے تحت عدالت کی اجازت کے بغیر پولیس کسی عورت کوگرفتار نہیں کر سکے گی۔ اس ترمیمی بل کے مطابق کسی خاتون کو ان کی مرضی کے بغیر شادی کے بدل میں بیاہنا(وٹہ سٹہ کی رسم) یا صلح کے بدلے (ونی کی رسم) میں دینے والے کو پانچ سے دس برس تک قید کی سزا ملے گی۔ ان جرائم کی سماعت سیشن کورٹ میں ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||