BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 February, 2005, 12:02 GMT 17:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زمینی راستے کھولیں

News image
لاہور میں پاکستان اور ہندوستان کی نمائندہ کاروباری تنظیموں نے مفاہمت کی ایک یاداشت پر دستخط کیے ہیں جس میں دونوں ملکوں کی حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ تجارت کے لیے واہگہ جیسے تین چار زمینی راستے کھولیں۔

ہندوستان کے مختلف بڑے صنعتی گروپوں کے چوبیس نمائندوں پر مشتمل ایک وفد کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹریز کے زیر اہتمام لاہور آیا ہے جہاں پیر کو اس کی ملاقات لاہور چیمبر آف کامرس کے عہدیداروں اور پنجاب کے صنعتکاروں اور تاجروں سے ہوئی۔ اس وفد میں دیگر گروپوں کے علاوہ ریلائنس گروپ کے ایک سے زیادہ عہدیدار بھی شامل ہیں۔

کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹریز اور لاہور چیمبر آف کامرس نے ایک ایم او یو پر دستخط کیے جس میں لاہور چیمبر کے قائم مقام صدر سہیل لاشاری کے مطابق دونوں ملکوں کی حکومتوں سے دوطرفہ تجارت بڑھانے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات کو تیز کرنے اور زمینی راستوں کے ذریعے تجارت کی اجازت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سہیل لاشاری نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تجارت میں اضافے کے لیے ضروری ہے کہ واہگہ، گنڈا پور، سیالکوٹ بارڈر اور کھوکھراپار جیسے زمینی راستوں سے تجارت کی اجازت دی جائے جو اس وقت صرف سمندری راستے سے کراچی اور ممبئی کے درمیان ہو رہی ہے۔

لاہور چیمبر کے عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کاروبار بڑھانے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ دونوں ملکوں کے بینک ایک دوسرے کے ہاں اپنی شاخیں کھولیں تاکہ ایل سی کھل سکے اور تاجروں کو دھوکہ دہی کا خطرہ نہ رہے۔

سہیل لاشاری نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ اگرچہ بھارت نے پاکستان کو پسندیدہ ترین ملک کا تجارتی درجہ دے رکھا ہے لیکن بھارت میں ایسی نان ٹیرف رکاوٹیں ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کی بھارت کو برآمدات بڑھ نہیں سکیں اس لیے ان رکاوٹوں کو دور کرنا ضروری ہے۔

News image

اُن کا کہنا تھا کہ اگر مناسب اقدامات کیے جائیں تو پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ تجارت اگلے دو برسوں میں پانچ ارب ڈالر تک اور چھ برسوں میں دس ارب ڈالر تک بڑھ سکتی ہے جو کہ اس وقت تقریباً پینتیس کروڑ ڈالر ہے۔

دوسری طرف ہندوستان سے آئے کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹریز کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سشانتا کمار سین نے کہا کہ ان کا ادارہ بھارت میں کسی بھی جگہ میڈ ان پاکستان چیزوں کی نمائش کا اہتمام کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ پاکستان کی بنی ہوئی چیزوں کی بھارت میں تجارت بڑھ سکے۔

ایک سوال کے جواب میں سشانتا کمار نے کہا کہ اگر پاکستان کی بھارت کو برآمدات میں نان ٹیرف رکاوٹیں ہیں تو وہ دور ہونی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ دنوں پہلے ایک بھارتی کاروباری وفد کی صدر جنرل پرویزمشرف سے ملاقات ہوئی تھی جس میں وفد نے صدر سے تجارت کے لیے واہگہ سرحد کھولنے کا مطالبہ کیا تھا۔

سشانتا کمار سین کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھارت کی طرف سے یہ خدشہ ہے کہ وہ اپنی بنی ہوئی چیزوں کی پاکستان میں ڈمپنگ کرے گا لیکن ان کا خیال ہے کہ سارک کے تحت سب ملکوں نے جو تجارتی معاہدہ سافٹا کیا ہوا ہے اس کے تحت پاکستان ڈمپنگ کی جانے والی کچھ چیزوں کی برآمد روکنے کے لیے انہیں منفی فہرست میں شامل کر سکتا ہے۔

سشانا کمار نے کہا کہ بھارت کے صنعتی گروپ پاکستان میں اپنے دفاتر کھولنا چاہتے ہیں جن سے انہیں اپنا کاروبار کرنے میں بہت مدد ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کے لیے مشترکہ کاروباری منصوبے بہت اچھے ہوں گے کیونکہ ان میں دونوں طرف کا سرمایہ لگا ہوگا۔

globeنقشوں پر پابندی
بھارتی عدالت نے چینی نقشوں پر پابندی لگائی ہے
بیوی قبول، بچہ نہیں
قیدی کو بیوی مل گئی لیکن ایک بچے کے ساتھ
بھارتی انتخابات
پاکستانی سیاسی و سماجی حلقوں میں دلچسپی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد