چینی کمپنی کے نقشے میں کشمیرآزاد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک بھارتی عدالت نے چین کے ساختہ ان نقشوں کی درآمد پر پابندی لگا دی ہے جن میں کشمیر کو علیحدہ ریاست دکھایا گیا ہے۔ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان 1947 میں پاکستان کی آزادی کے وقت سے ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔ اس مسئلہ پر دونوں ملکوں کے درمیان دو جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ چین سے در|آمد کیے گئے ان نقشوں میں جموں اور کشمیر کے شمالی علاقوں کو بھارت سےعلیحدہ ایک الگ رنگ میں ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ متنازعہ نقشے چین اور ہانگ کانگ کی چار مختلف کمپنیوں نے تیار کیے ہیں۔ بدھ کو دیے گئے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کا اطلاق درآمد شدہ نقشوں پر بھی ہو گا۔ ججوں نے کہا ’ ہم نے کسٹم اہلکاروں کو حکم دیا ہے کہ ملک میں ایسے نقشوں کو آنے نہ دیا جائے جن پر بھارتی علاقے کی غلط نشاندہی کی گئی ہو‘۔ عدالت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے نہ لینے پر کسٹم حکام کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔ بھارت نے جو کہ دو تہائی جنوبی کشمیر کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے کشمیر کے متنازعہ علاقے کو علیحدہ ریاست کے طور پر پیش کرنے کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔ عدالت میں دائر کیےگئے کیس میں بتایا گیا کہ اس نقشے سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیر ایک خود مختار ریاست ہے۔ بھارت اور پاکستان دونوں کشمیر کے مکمل علاقے پر اپنا حق جتاتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||