کانگریس تنازعۂ کشمیر پر لچک دکھائے گی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں کانگریس کی نئی حکومت نے پاکستان کے ساتھ شروع کیے گۓ تعلقات کی بحالی کے عمل کو جاری رکھنے کا تہیہ کیا ہے اور بظاہر لگ رہا ہے کہ دونوں ملک مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں اور اس سلسلے میں دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹریوں اور وزراء خارجہ کے درمیان ہونی والی بات چیت کا پروگرام بھی طے ہوا ہے۔ نۓ وزیرآعظم من موہن سنگھ نے پہلی پریس کانفرنس میں اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مظبوط رشتے قائم کرینگے۔ انہوں نے کہا: ”جب برلن کی دیوار گر سکتی ہے تو پاکستان اور بھارت اپنی سرحد کو تبدیل کیوں نہیں کرسکتے ہیں؟” سوال یہ نہیں کہ کانگریس مذاکرات کو جاری رکھے گی، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس پاکستان کے ساتھ اس حد تک سمجھوتہ کرسکتی ہے جس کی امید سابق وزیرآعظم اٹل بہاری واجپئی سے وابستہ کی گئی تھی۔ کانگریس کا مسئلہ یہ ہے کی اس کی سرپرست نہرو خاندان کی اطالوی نژاد بہو سونیا گاندھی ہیں جو تن من دھن سے بھارت کو قبول کرچکی ہیں لیکن کیا ایک ارب سے زائد آبادی انہیں بھارتی تصور کرتی ہے یہ شاید وثوق سے نہیں کہا جاسکتا ہے۔ حالیہ انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے سونیا گاندھی کی شہریت کا سوال اپنی مہم کا اہم حصہ بنایا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ اگر اس کی حکومت دوبارہ قائم ہوتی ہے تو وہ ایسا قانون ضرور لائےگی جس کی وساطت سے غیر بھارتیوں کو ملک کے اعلیٰ عہدوں پر مقرر نہیں کیا جاسکتا تھا۔ یہ صحیح ہے کہ کانگریس حالیہ انتخابات میں ایک بڑ ی پارٹی کی صورت میں ابھری ہے لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ بی جے پی دوسری بڑی پارٹی ہے جس نے آبادی کے ایک بڑے حصے کو اپنا حامی بنالیا ہے۔ کانگریس پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں کشمیر کے معاملے میں ذرا بھی لچک دکھاتی ہے تو اسے اس تناظر میں نہیں لیا جائےگا، بی جے پی دور اقتدار میں اس کا اثر کچھ اور ہوتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ کانگریس کے سیکولر نظریہ کے باعث کٹر ہندو اس پر بھروسہ نہیں کرسکتے جبکہ بی جے پی کشمیر کے معاملے پر کتنی ہی لچک کیوں نہ دکھائے اس پر کوئی سوال نہیں اٹھائے گا جس کی سب سے بڑی وجہ شاید یہ ہے کہ واجپئ کی حب الوطنی پر کوئی حرف گیری نہیں کرسکتا ہے۔ ایسے حالات میں کانگریس کشمیر کے معاملے میں کس حد تک رعایت دے سکتی ہے وہ آنے والا وقت ہی بتائےگا اور جو اس بات پر بھی منحصر ہوگا کہ عالمی برادری، بالخوص امریکہ، کیا کانگریس کے دور میں اسی طرح کی دلچسپی لے گا جو اس نے بی جے پی کے دور حکومت میں ظاہر کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||