صدر کے خطاب میں اصلاحات کا اعلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی صدر عبدالکلام نے پیر کو پارلیمان کے پہلے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں ملک کی نئی حکومت کے مقاصد اور منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اقتصادی اصلاحات کے ذریعے ’عوام کے چہروں پر مسکراہٹ‘ بکھیر دی جائے گی۔ انہوں نے پارلیمان کو مخاطب کر کے کہا کہ کانگریس پارٹی سالانہ سات سے آٹھ فیصد تک معاشی ترقی کو یقینی بنانے کا تہیہ کیے ہوئے ہے اور وہ بھی کچھ اس انداز میں کہ لوگوں کے لیے ’ملازمتوں میں اضافہ‘ ہو گا۔ دریں اثناء بھارت کی نئی حکومت نے پیر ہی کو یہ اعلان کیا ہے کہ کشمیر میں مسلم اکثریت کی خصوصی خود مختاری کے احترام کے علاوہ شورش زدہ علاقے میں سرگرم عناصر سے مذاکرات بھی کیے جائیں گے۔ صدر عبدالکلام نے حکومت کی نئی پالیسی پارلیمان کو پڑھ کر سنائی جس میں کہا گیا ہے کہ ’حکومت آئین کی شق 307 کا ہر طرح سے احترام کرے گی جس میں جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دیا گیا ہے۔ اور منتخب حکومت سے صلاح مشورے کے ساتھ جموں و کشمیر کے مختلف گروہوں سے بات چیت کی جائے گی۔‘ آئین کی شق 307 کے مطابق کشمیر کو اطلاعات، دفاعی اور خارجی امور کے علاوہ ہر طرح کی خود مختاری حاصل ہو گی۔ جبکہ بھارت کی سابقہ حکومت نے اس شق کو ختم کر کے کشمیر کو ہندوستان میں ضم کرنے پر زور دیا تھا۔ لیکن سابقہ حکومت نے یہ اقدام مخلوط جماعتوں کے دباؤ کے باعث نہیں کیا تھا۔ صدر عبدالکلام نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ یہ ایک انتہائی پرتشویش مسئلہ ہے کہ فرقہ پرست عناصر نے ملک کے ماحول کو خراب کیا اور جس کے نتیجے میں گجرات کے واقعات جیسے خوفناک فسادات نے جنم لیا۔ نئی حکومت ان عناصر کا مقابلہ کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ بھارت کی حکمراں جماعت کانگریس پارٹی نے عہد کیا ہے کہ وہ سیکولر روایات و اقدار کے تحفظ و فروغ کو یقینی بنائے گی۔ کانگریس پارٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ تمام سماج دشمن اور بنیاد پرست عناصر سے بلاخوف وخطر قانون کی بالا دستی قائم کرے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||