BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 May, 2004, 17:27 GMT 22:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امن کوششیں جاری رہیں گی‘
پاک بھارت سرحد
صدر مشرف اور وزیراعظم من موہن سنگھ نے ٹیلیفون پر گفتگو میں امن کوششوں کو نہ صرف جاری رکھنے بلکہ آگے بڑھانے پر زور دیا ہے۔

اسلام آباد میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس نے بتایا ہے کہ پاکستان میں اس بات کی سرکاری سطح پر تصدیق کر دی گئی ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے اتوار کو بھارت کے نئے وزیراعظم من موہن سنگھ کو ٹیلی فون کیا اور انہیں نیا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس موقع پر صدر مشرف نے کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی کے لئے بھی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ دونوں سربراہان نے گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ جنوری میں شروع ہونے والے مذاکرات کے سلسلے اور قیام امن کی کوششوں کو نہ صرف جاری رکھا جائے بلکہ مزید آگے بڑھایا جائے اور کشمیر سمیت تمام معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا کہ دیگر ممالک میں وزارت عظمیٰ کے عہدے سنبھالنے والوں کو مبارکباد کے پیغامات بھیجنا ایک روایت ہے اور صدر جنرل مشرف اور وزیراعظم جمالی نے سنیچر کو ایسے پیغامات ارسال بھی کئے تھے لیکن پاک بھارت کے باہمی تعلقات کے حوالے سے صدر پاکستان کی طرف سے بھارتی وزیراعظم کو مبارکباد کے لئے فون کرنا ایک نئی بات ہے۔

بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بی جے پی کی شکست کے بعد صدر جنرل مشرف اور پاکستان کی کوشش ہے کہ اب یہ سلسلہ نہ ٹوٹے اور فون کے ذریعے یہ کوشش کرنا غالباً اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اس بات کا خواہاں ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے اور جلد از جلد امن قائم ہو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد