من موہن سنگھ کو حکومت بنانے کی دعوت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے صدر اے پی جے عبدالکلام نے کانگریس کے پارلیمانی رہنما من موہن سنگھ کو حکومت بنانے کی دعوت دی ہے۔ اس بات کا اعلان ڈاکٹر من موہن سنگھ نے کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی کے ساتھ صدر عبدالکلام سے ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے ملاقات کرتے ہوئے کیا۔ اس طرح بھارت میں اقتصادی اصلاحات کے بانی من موہن سنگھ ملک کے پہلے سکھ وزیرِ اعظم بن جائیں گے۔ من موہن سنگھ نے اخبار نویسوں کو صدر کی جانب سے اپنے نام لکھا گیا خط بھی پڑھ کر سنایا۔ ڈاکٹر من موہن سنگھ نے بتایا کہ حلف برداری کی تاریخ کا فیصلہ کرنے کے لئے وہ صدر سے ایک بار پھر ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھارت کو اقتصادی اصلاحات کا ایسا نمونہ بنا دیں گے جس کے تحت غریبوں کے لئے زیادہ مواقع پیدا ہونگے۔ صدارتی محل کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اکیسویں صدی بھارت کی صدی ہو گی‘۔ ان کے ساتھ کھڑی سونیا گاندھی نے، جو قدرے پر سکون نظر آ رہی تھیں، کہا کہ وہ گزشتہ 48 گھنٹوں سے کافی پریشر میں تھیں۔ ’من موہن سنگھ کے ہاتھوں میں ملک محفوظ ہو گا۔‘ سونیا گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم کے عہدے جیسے اہم معاملے کے بارے میں حتمی فیصلہ ہو چکا ہے اور اس اہم مرحلے کے گزرنے پر وہ خوش ہیں۔ من موہن سنگھ نے سونیا گاندھی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’اپنی پوری کوشش کریں گے کے جو بھروسہ ان پر کیا گیا ہے اس پر پورا اتریں‘۔ انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی کی طرف سے دی جانے والی قربانی کی مثال بالکل اسی طرح ہے جس طرح آزادی کی جدوجہد کے دوران آئیڈیلزم کے اعلیٰ درجے کے حصول کے لئے قربانیاں دی گئی تھیں۔ ضلع راولپنڈی کے گاؤں گاہ میں پیدا ہونے والے من موہن سنگھ بھارت میں اقتصادی اصلاحات کے پروگرام کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ بہتر (72) سالہ منموہن سنگھ ماہر تعلیم سے سول سرونٹ بنے۔ انہوں نے برطانیہ کی اوکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی سے معاشیات میں ڈگری حاصل کی اور 1992 میں وہ بھارت کے وزیر خزانہ بنے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||