وزیراعظم کے لئےمن موہن سنگھ نامزد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کانگریس کی پارلیمانی پارٹی نے سونیا گاندھی کے انکار کے بعد بدھ کو من موہن سنگھ کو پارٹی کا پارلیمانی لیڈر منتخب کر کے انہیں وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا ہے۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور وزیر اعظم کے عہدے کے لیے پارٹی کی طرف سے نامزد کردہ من موہن سنگھ بدھ کی رات کو بھارت کے صدر اے پی جے ابوالکلام سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ اس ملاقات میں کانگریس کے اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لیے اتحادی جماعتوں کی طرف وصول ہونے والے حمایت کے خطوط صدر کو پیش کریں گے۔ کانگریس کی پارلیمانی پارٹی نے سونیا گاندھی کو پارلیمانی پارٹی کا چیئر پرسن منتخب کر لیا گیا۔ آخری خبریں آنے تک کانگریس کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس پارلیمنٹ کے مرکزی ہال میں جاری تھا۔ کانگریس کے رہنماؤں کی طرف سے دہلی میں جلد ہی ایک پریس کانفرنس کی بھی توقع ہے جس میں پارٹی کے فیصلے کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔ سونیا گاندھی نے کانگریس کے رہنماؤں اور کارکنوں کے پر زور اصرار کے باوجود وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے سے انکار کر دیا تھا۔ سونیا کے انکار کے بعد کانگریس کو نئے رہمنا کی تلاش کرنا پڑی۔ کانگریسں کے ارکانِ پارلیمنٹ کے دباؤ کے باوجود سونیا گاندھی نے وزیرِ اعظم نہ بننے کے اپنے فیصلے کو بدلنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد ان کی رہائش گاہ کے باہر پارٹی کے سینکڑوں کارکن اور رہنما حتمی فیصلے کے انتظار میں گزشتہ دو دنوں سے جمع تھے۔ منگل کے دن بھر کی سیاسی سرگرمیوں کے بعد سونیا گاندھی نے کانگریس پارلیمانی اجلاس میں اپنا یہ فیصلہ سنایا۔انہوں نے کہا کہ ملک کا وزیرِ اعظم بننا کبھی بھی ان کا مقصد نہیں تھا ان کا یہ فیصلہ ان کی روح کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا: ’میں اس عہدے کو بڑے احترام کے ساتھ قبول کرنے سے انکار کرتی ہوں‘۔ انہوں نے منگل کو کانگریس پارٹی کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے اندر کی آواز مجھے کہتی ہے کہ مجھے یہ عہدہ نہیں لینا چاہئے۔ ابھی تک یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ اطالوی نژاد سونیا گاندھی نے یہ فیصلہ کن وجوہات کی بنا پر کیا ہے۔ سونیا گاندھی کے اس اعلان کے بعد کانگریس کے ممبر پارلیمان میں ایک کھلبلی مچ گئی تھی اور انہوں نے سونیا سے گاندھی اپنا فیصلہ واپس لینے کی اپیل کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||