گاندھیوں کی سونیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے عام انتخابات میں کانگریس کی غیر متوقع جیت کے بعد اب سب کی نظریں جس شخصیت پر لگی ہوئی ہیں وہ کانگریس کی راہنما اطالوی نژاد سونیا گاندھی ہیں۔ اکیس مئی 1991 میں تامل خودکش بمباروں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے بھارت کے سابق وزیرِ اعظم راجیو گاندھی کی 58 سالہ بیوہ سونیا گاندھی کانگریس کی جیت کے بعد اب ملک کی سربراہ بن سکتی ہیں۔ 1947 سے اب تک 44 سال ملک میں حکومت کرنے والے نہرو سے گاندھی بننے والے خاندان کی سیاست کا بیڑا اب سونیا نے اٹھا رکھا ہے۔ انہوں نے راجیو گاندھی کے قتل کے بعد سیاست سے کنارہ کشی کر لی تھی لیکن 1998 انہوں نے گانگریس پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی اور 1999 میں الیکشن جیت کر پارلیمان میں پہنچیں۔ حالیہ انتخابات کے حیران کن نتائج سے پہلے سونیا گاندھی کے سیاسی مستقبل پر ایک سوالیہ نشان لگا ہوا تھا۔ ان کی سربراہی میں کانگریس نے 1999 کے انتخابات میں تاریخ کی سب سے بری کارکردگی دکھائی تھی۔ گزشتہ برس کے ریاستی انتخابات میں بھی کانگریس کوئی متاثرکن کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ تاہم گاندھی خاندان کا نام ابھی بھی سیاسی طور پر بڑا سمجھا جاتا ہے اور کانگریس کی خواہش رہی تھی کہ وہ عوام کے اس احساس کو ووٹوں میں تبدیل کروا سکیں۔ سونیا گاندھی کے سیاسی مخالفین نے ان کے اطالوی نژاد ہونے کو انتخابی ایشو بنایا تھا اور کہا تھا کہ دیکھنا یہ ہے ووٹر کسی بھارتی کو ووٹ دیتے ہیں کہ غیر ملکی کو۔ ان کی انتخابی مہم کو جلا ان کے بیٹے راہول گاندھی کے سیاست میں آنے کی وجہ سے بھی ملی ہے۔ ان کی بیٹی پریانکا نے بھی ان کی انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ گو کہ ان کا تعلق اٹلی کے علاقے ٹروین سے ہے لیکن ان کی ملاقات راجیو گاندھی سے کیمبرج میں دورانِ تعلیم ہوئی تھی۔ دونوں نے 1968 میں شادی کر لی اور شادی کے بعد وہ اپنے شوہر کے ساتھ اپنی ساس اور اس وقت کی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کے گھر ان کے ساتھ رہنے لگیں۔ وہ اترپردیش کے علاقے رائے بریلی اور امیتھی میں خاصی مقبول ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ رائے بریلی سے اور ان کا بیٹا امیتھی سے بہت بڑے فرق سے کامیاب ہوئے ہیں۔ سونیا نے اپنے مدِ مقابل اشوک کمار سنگھ کو 249665 سے اور راہول گاندھی نے چندرا پرکاش مشرا کو 130592 سے ووٹوں شکست دی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||