کانگریس کی حکومت کے بارے میں ابہام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کانگریس رہنما سونیا گاندھی نے حکومت سازی کے سلسلے میں صدر اے پی جے عبدالکلام سے ملاقات کی ہے اور بعد میں ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں دوسری جماعتوں سے مذاکرات کے لئے مزید وقت درکار ہے۔ حکومت سازی میں تاخیر سے کانگریس کی حکومت کے بارے میں نئی کنفیوژن جنم لے رہی ہے۔ اس بارے میں بھی افواہیں ہیں کہ سونیا وزیرِ اعظم بنیں گی یا نہیں۔ سونیا گاندھی نے صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے دوران اپنی اتحادی پارٹیوں کی جانب سے حمایت کے خطوط پیش کئے اور بائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے حمایت کے بارے میں وضاحت کی۔ صدر اے پی جے عبدالکلام سے ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ حکومت سازی سے پہلے وہ صدر سے مزید بات چیت کریں گی۔ اس سلسلے میں سونیا گاندھی بدھ کے روز صدر سے دوبارہ ملاقات کرنے والی ہیں۔ اس سے پہلے امید کی جا رہی تھی کہ وہ بدھ کے روز وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھائیں گی۔ سونیا گاندھی کے مطابق بدھ کے روز وہ صدر کو بائیں بازو کی جماعتوں سمیت دیگر پارٹیوں کی جانب سے لکھے گئے حمایت کے خطوط پیش کریں گی۔ بائیں بازو کی جماعتیں پہلے ہی اعلان کر چکی ہیں کہ وہ سونیا گاندھی کی حمایت تو کریں گی لیکن حکومت میں شامل نہیں ہو گی۔ دلی میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی نئی حکومت کو بہت سے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نئی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں اور بمبئی سٹاک مارکیٹ میں گراوٹ کے خدشات کو دور کرنے کے لئے کانگریس کے ممکنہ وزیر خزانہ من موہن سنگھ نے اعلان کیا ہے کہ آزاد منڈی سے متعلق اصلاحات جاری رہیں گی۔ دریں اثنا پیر کے روز کے زبردست نقصانات کے بعد بمبئی سٹاک ایکسچیج میں بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ پیر کے روز سولہ فیصد گراوٹ کے بعد بمبئی سٹاک ایکسچینج کے سینسیکس انڈیکس میں پانچ فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||