ابھی کچھ اور وقت چاہیے:سونیاگاندھی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی نے بھارتی صدر ابو الکلام سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ انہیں ابھی حکومت سازی کے لیے مزید وقت چاہیے۔ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد حکومت سازی میں ہونے والی تاخیر کے باعث ابہام اور مختلف النوع شکوک و شبہات میں اضافہ ہوا ہے۔ دریں اثناء انڈیا کی سٹاک مارکیٹ میں حصص کے بھاؤ میں ایک دن کی ریکارڈ کمی کے بعد ڈرامائی تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ دلی میں بی بی سی کے نامہ نگار سنجیو سری واستیو کا کہنا ہے کہ ابھی یہ بات پورے یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ سونیا گاندھی واقعتاً وزراتِ اعظمیٰ کا عہدہ لینے کے بارے میں متذبذب ہیں یا یہ افواہیں اتحادیوں سے مذاکرات کے لیے ان کی اس حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جو انہوں نے اپنے ہاتھ مضبوط رکھنے کے لیے اختیار کی ہو گی۔ اس صورتِ حال میں کانگریس کے ارکانِ پارلیمنٹ کا بھی ایک اجلاس جاری ہے۔ اس دوران کانگریس کے ترجمان نے اس بات کو ’محض ایک قیاس آرائی‘ قرار دیا کے سونیا گاندھی وزارتِ عظمیٰ قبول کرنے کے بارے میں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر رہی ہیں۔ صدر ابوالکلام سے ملاقات کے بعد سونیا گاندھی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حامیوں کی جانب سے حمایت کے خطوط کے ساتھ صدر سے بدھ کو ایک اور ملاقات کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ صدر یہ بات جاننا چاہتے ہیں کہ کون کون سی جماعتیں حکومت بنانے کے لیے ہمیں اتحاد میں شامل ہو کر اور کون کون سی جماعتیں اتحاد کے باہر رہ کر ہماری حمایت کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’حلف براداری کی تقریب ممکن حد تک جلد از جلد منعقد ہو گی۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||