اٹلی میں خوشیاں: سونیا جیت گئیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹلی میں اس بات کی خوشیاں منائی جا رہی ہیں کہ کوئی اطالوی نژاد خاتون وزیراعظم بننے والی ہیں چاہے وہ بھارت کی وزیراعظم ہی کیوں نہ بنیں۔ شمالی اٹلی میں پیدا ہونے والی سونیا گاندھی حالیہ بھارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد ملک کی آئندہ وزیراعظم بن سکتی ہیں۔ دسمبر 1946 میں پیدا ہونے والی بچی کا نام سونیا مائینو رکھا گیا۔ اٹلی میں سونیا کے آبائی شہر اوباسانو کے میئر نے گاندھی خاندان میں بیاہی جانے والی سونیا کو دِلی مبارکباد دی ہے۔ اطالوی وزرات خارجہ کی موگریتا بونیور نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’ آخر کار ایک اطالوی خاتون بطور وزیراعظم‘۔
اٹلی کے اخبار کوریری ڈیلا سیرا نے صفحہ اول پر یہ سرخی لگائی کہ ’سونیا گاندھی: اطالوی سونیا گاندھی جیت گئیں‘۔ اس کے علاوہ روزنامہ لاریپبلیکا نے لکھا کہ ’سونیا گاندھی: ایک اطالوی کی بھارت میں جیت‘۔ سونیا کی انتخابات میں کامیابی کے حوالے سے اوباسانو جوش و خروش کا سماں تو ہے لیکن سونیا کے گھر والوں نے اس کامیابی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ سونیا کی عمر اکیس برس تھی جب وہ راجیو گاندھی سے بیاہی گئیں۔ دونوں کی ملاقات برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں ہوئی تھی۔ راجیو اور ان کی والدہ دونوں ہی ہندوستان کے وزیراعظم رہے اور دونوں کو ہی قتل کر دیا گیا جس کے بعد کانگریس پارٹی کی قیادت سونیا گندھی نے سنبھالی۔ سونیا اب بھارتی شہری ہیں اور انہوں نے حالیہ انتخابات سے پہلے کہا تھا کہ انہیں نہیں لگتا کہ اطالوی نژاد ہونا بھارتی ووٹروں کے لئے کوئی مسئلہ ہو گا۔ ایک ٹی وی پر انٹرویو کے دوران سونیا کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ لوگ مجھے غیرملکی سمجھتے ہیں کیونکہ میں غیرملکی نہیں ہوں۔۔۔ میں ہندوستانی ہوں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||