سونیا میری سیاسی ہیرو ہیں: راہول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں کی کامیابی پر میڈیا اور سیاسی مبصرین حیرت زدہ ہیں۔ کانگریس کی اس کامیابی کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ پارٹی کی اس فتح میں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے بیٹے راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی کا میدان میں آنے کا بڑا ہاتھ ہے اور جس کی وجہ سے پارٹی کارکنان میں زبردست حوصلہ پیدا ہوا ہے۔ ابتدا میں افواہیں گرم تھیں کہ پریانکا عملی سیاست میں آنے کا اعلان کریں گی لیکن کانگریس نے راہول گاندھی کو اس وقت ترپ کے پتے کے طور پر استعمال کیا جب ملک میں سیاسی لہر کانگریس کے خلاف چل رہی تھی۔ راہول کی آمد سے جیسے پارٹی میں جان سی پڑ گئی۔ راہول گاندھی کے سیاست میں آنے کا بی جے پی پر اتنا اثر ہوا کہ بی جے پی کے سینیئر رہنما اپنی بوکھلاہٹ کو چھپا نہ سکے اور یہاں تک کہہ گئے کہ ’چونکہ وہ ایک غیر ہندوستانی نژاد کے بیٹے ہیں اس لئے انہیں بھی وزیراعظم کے عہدے سے باز رکھا جائے گا‘۔ لیکن اس کے باوجود راہول ڈٹے رہے اور آخر کار کامیاب ہوئے۔ راہول گاندھی نے پہلی بار ہی لوک سبھا کے انتخابات میں حصہ لے کر زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔ راہول نے انتخابی مہم کے دوران اپنے علاقے کے علاوہ صرف ہندوستان کے چند حلقوں کا دورہ کیا تھا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس انتخابی مہم کے دوران انہیں پورے ملک میں بھیجتی تو نتائج اور بہتر ہو سکتے تھے۔ اپنی کامیابی کے بعد راہول گاندھی نے صحافیوں سے بڑے پراعتماد انداز میں کہا کہ ’میں اپنی ماں سونیا گاندھی کو اپنا سیاسی ہیرو مانتا ہوں۔ کیونکہ میری ماں نے مسز گاندھی کا قتل دیکھا اور حالات سے مقابلہ کیا۔ بعد میں میرے والد راجیو گاندھی کا قتل ہوا تب بھی وہ جدوجہد کرتی رہیں۔ یہاں تک کہ حکمراں جماعت ان پر کبھی غیر ملکی اور کبھی بدعنوان ہونے کے الزامات لگاتی رہی۔ لیکن انہوں نے شکست نہیں مانی اور بالآخر مستقل جدوجہد سے کانگریس کو کامیابی سے ہمکنار کیا‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||