پاکستان مداخلت کر رہا ہے: واجپئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں انتخابات کے چوتھے مرحلے کی انتخابی مہم کے خاتمے پر وزیراعظم واجپئی نے پاکستان پر بھارت کے اندرونی معاملات میں دخل دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں پاکستان کی پشت پناہی سے ہونے والی شدت پسندی کا مقصد کشمیریوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنا ہے۔ تاہم بقول ان کے کشمیریوں نے انتخابات میں بھرپور حصہ لیا۔ واجپئی نے کہا ان کی حکومت نے پہل کرتے ہوئے پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا کیونکہ خطے میں غربت کے خاتمے کے لئے دونوں پڑسیوں میں امن ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دونوں ملکوں کے مابین سرکاری حکام کی سطح پر مذاکرات کا عمل جاری ہے جس کے بعد وزراء کی سطح پر مذاکرات ہوں گے۔ واجپئی نے اس سلسلے میں سربراہ ملاقات کی توقع بھی ظاہر کی۔ دریں اثناء سنیچر کے روز چار مرحلوں پر مشتمل انتخابات کے آخری مرحلے سے پہلے جاری انتخابی مہم اختتام کو پہنچ گئی۔ اس موقع پر حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے رہنماؤں نے مختلف انتخابی ریلیوں سے خطاب کیا۔ بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے شمالی ریاست ہماچل پردیش میں منڈی میں خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن رہنما سونیا گاندھی سے مطالبہ کیا کہ وہ لاکھوں ڈالر کی جعلی قانونی دستاویزات سے متعلق سکینڈل پر اپنی جماعت کا موقف واضح کریں۔ ادھر حزب اختلاف کی بڑی جماعت کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی نے دارالحکومت دہلی میں خطاب کرتے ہوئے واجپئی کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی پر ملک میں مذہبی تفرقہ پھیلانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دو سال قبل ریاست گجرات میں ہونے والے فسادات کا ذکر کیا۔ ان فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ شہری مارے گئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ سونیا گاندھی نے حکومت پر بدعنوانی اور دروغ گوئی کے الزامات بھی لگائے۔ کانگریس کو امید ہے کہ وہ دہلی میں پارلیمان کی سات نشتوں پر بہتر کارکردگی دکھائے گی۔ آخری مرحلے کی پولنگ پیر کے روز ہوگی جس کے دوران بارہ ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام چار صوبوں کے بیاسی حلقوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ادھر الیکشن کمیشن نے ریاست بہار کے چودہ حلقوں میں ازسر نو پولنگ کا حکم دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||