پنجاب پانچ کے بڑے انتخابی دنگل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امرتسر میں کرکٹر نوجیت سدھو، گورداسپو میں فلم ہیرو ونود کھنہ، جالندھر میں آئی کے گجرال کے بیٹے نریش گجرال ، فرید کوٹ میں اکالی رہنما کے بیٹے سکھبیر سنگھ بادل اور پٹیالہ میں مہارانی پرنیت کور۔ دس مئی کو ہونے والے لوک سبھا کے انتخابات میں بھارتی پنجاب کی تیرہ میں سے یہ پانچ نشستیں خاص دلچسپی کی حامل ہیں۔ امرتسر: سکھ سیاست کا مرکز ستر فیصد کے قریب سکھ ووٹروں کے ساتھ امرتسر سکھ سیاست کا مرکز تو ہے لیکن سکھوں کی پارٹی اکالی دل یہاں کے لوک سبھا کے انتخابی حلقہ سے کبھی انتخاب نہیں جیت سکی۔ کانگریس ہاری تو جن سنگھ کا امیدوار جیتا یا آزاد امیدوار اور یا بی جے پی۔ اس بار یہاں لوک سبھا کے کانگریسی رکن آر ایل بھاٹیہ کا مقابلہ بی جے پی کے امیدوار اور کرکٹر نوجیت سدھو سے ہورہا ہے۔ آر ایل بھاٹیہ بڑے پرانے اور منجھے ہوئے بزرگ سیاستدان ہیں تاہم نووجیت سدھو کے یہاں آنے سے مقابلہ میں خاصی رونق آگئی ہے۔ زعفرانی پگڑی پاندھ کر اور پینٹ کوٹ پہن کر امرتسر کے گاؤں گاؤں اپنی مہم چلانے والے نووجیت سدھو اپنی تقریروں میں کہہ رہے ہیں کہ میں اٹل بہاری واجپائی کا سپاہی ہوں۔ جس طرح کرکٹ کمینٹری میں وہ محاورے استعمال کرتے ہیں اب وہ انتخابی مہم میں سکھ لطیفوں اور محاوروں سے اپنے ووٹروں کو لبھانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ امرتسر کے مقابلہ سے ایک بات تو واضح ہوگی کہ کیا پنجاب کا ووٹر بھاٹیہ کی شکل میں پرانے سیاستدانوں کو برقرار رکھنا چاہتا ہے یا جوان سیاسی قیادت سامنے لانا چاہتا ہے۔ فرید کوٹ: سکھبیر شنگھ بمقابلہ کرن بڑاڑ فرید کوٹ میں مقابلہ ذرا یک طرفہ سا ہے جہاں اکالی قائد پرکاش سنگھ بادل کے امریکہ سے تعلیم یافتہ بیٹے سکھبیر سنگھ بادل کے مقابلہ میں کانگریس نے ایک خاتون کرن بڑاڑ کو ٹکٹ دیا ہے جو سیاست میں ایک نیا چہرہ ہیں اور جن کے بارے میں لطیفہ مشہور ہے کہ لوگوں کو ابھی یہ پتا نہیں کہ کرن بڑاڑ کسی مرد کانام ہے یا عورت کا۔ بادل کا کہنا ہے کہ ان کا تو مقابلہ ہی نہیں ہے اور وہ بڑے مارجن سے جیتیں گے جبکہ کرن بڑاڑ ، جو وزیراعلی پنجاب امریندر سنگھ کی قریبی رشتے دار ہیں ، خاصی پُراُمید نطر آتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جہاں بھی جا رہی ہیں لوگ پوری توجہ سے اور خاموش رہ کر ان کی بات سنتے ہیں اور ان کو بہت خلوص مل رہا ہے۔ گورداس پور: ونود کھنہ بمقابلہ سکھ بنس بھنڈر گورداسپور کی نشست سے ہندی فلموں کے ہیرو ونود کھنہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار ہیں اور اداکارہ پونم ڈھلوں اور سنجے دت نے بھی ان کی انتخابی مہم چلائی ہے۔ونود کھنہ نے انیس سو اٹھانوے اور انیس سو ننانوے کے عام انتخابات میں یہ نشست جیتی۔ اب ان کا مقابلہ کانگریس کی خاتون امیدوار سکھ بنس بھنڈر سے ہے جو پہلے بھی یہاں سے پانچ بار یہاں سے انتخاب جیت چکی ہیں۔ چند روز پہلے گورداسپور میں واقع پٹھان کوٹ میں سونیا گاندھی ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرکے گئی ہیں جسے وہاں کا بہت بڑا انتحابی جلسہ قرار دیا گیا اور لوگوں نے مکانوں کی چھتوں پر چڑھ کر ان کی تقریر سنی۔
گورداسپور میں بھی اکالیوں کو کبھی انتخابی فتح نہیں ملی۔ یہاں زیادہ تر کانگرسی جیتتی آئی ہے۔ پچھلے دو عام انتخابات میں بی جے پی نے اکالیوں سے مل کر یہ نشست حاصل کی تھی۔ اس بار مقابلہ سخت ہے۔ونود کھنہ اور بھنڈر اپنے اپنے دور میں اس حلقے کے لیے کرائے گئے ترقیاتی کاموں کو گنوا رہے ہیں اور ایک دوسرے کی ناکامیوں کو اچھال رہے ہیں۔ پٹیالہ: مہارانی پریت کور بمقابلہ کنول جیت سنگھ سب سے بڑا مقابلہ پٹیالہ میں ہورہا ہے جہاں وزیراعلیٰ پنجاب امریندر سنگھ کی بیوی اور موجودہ رکن لوک سبھا مہارانی پرنیت کور کانگریس کی طرف سے اکالی امیدوار اور رکن صوبائی اسمبلی کنول جیت سنگھ کے مقابلہ میں ہیں۔ پٹیالہ کی نشست کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں انیس سو ستتر سے ایک بار کانگریس جیتتی ہے اور دوسری بار اکالی دل۔ کنول جیت کور کا تعلق بنوڑ کے تاریخی قصبہ سے ہے اور دیہی حلقہ میں انکی شہرت بہت اچھی ہے کیونکہ انھوں نے خاصے ترقیاتی کام کرائے تھے۔ پٹیالہ میں بڑا مسئلہ ایک گھگھر نامی برساتی ندی کا ہے جو گرمیوں میں سیلاب سے بہت سے دیہاتوں کو سخت نقصان پہنچاتی ہے۔ پرنیت کور اپنے خاوند اور وزیراعلیٰ کے زور پر کہہ رہی ہیں کہ انھوں نے اس برساتی ندی سے دیہاتوں کو بچانے کے لیے ایک سو پچاس کروڑ کا منصوبہ منظور کرالیا ہے اور جیت کر اس پر عمل کروائیں گی۔ دوسری طرف اکالی کارکن کہہ رہے ہیں کہ پنجاب میں وزیراعظم واجپائی کا ایک امیج بنا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے ان کے امیدوار کو بھی فائدہ ہوگا۔
پٹیالہ میں نو صوبائی اسمبلی نشستوں میں سے چار تو اکالی دل کے پاس ہیں جہاں اس کا زور بھی ہے۔ لیکن کانگریس کو اپنے صوبائی ارکان اسمبلی کی پوری حمایت حاصل نہیں۔ کانگریس کے اندر وزیراعلیٰ کی سابقہ مخالف راجندر کور بھٹل بھی صوبائی رکن اسمبلی ہیں۔ وہ اور راج پورہ اور لہرا گھگھا سے کانگریس کے ارکان صوبائی اسمبلی وزیراعلی کی کچن کابینہ سے ناخوش ہیں۔ وزیراعلی سے ناراض یہ ارکان صوبائی اسمبلی مہارانی پرنیت کور کے لیے کام کرتے نطر نہیں آرہے انھیں منانے کے لیے اوروزیراعلی کی کوششیں اب تک رنگ نہیں لاسکیں۔ شاید اسی وجہ سے اب کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی خود اس حلقہ میں سنام کےمقام پر جمعہ کے روز ایک انتخابی جسلہ عام سے خطاب کرنے آرہی ہیں تاکہ کانگریس کے لوگ متحد ہوسکیں۔ دوسری طرف اکالیوں کو ایک نقصان یہ ہے کہ اکالی دل کے بانیوں میں سے ایک بزرگ رہنما گورچرن سنگھ توڑا وفات پاگئے ہیں اور ان کے اثر و رسوخ سے اکالیوں کو جو فائدہ ہوتا تھا وہ شاید اب پوری طرح نہ ہو۔ پٹیالہ میں جو کچھ ہورہا ہے اسے دیکھ کر پاکستان کے انتخابات کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ کنول جیت سنگھ نے وزیراعلی پر اپنی بیوی کو جتوانے کے لیے بوگس ووٹ بنوانے کا الزا م بھی لگایا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پولیس زبردستی بسیں پکڑ رہی ہے تاکہ سونیا گاندھی کے جلسہ میں لوگوں کو لے جاسکے۔ وزیراعلی ان الزامات کی تردید کررہے ہیں۔ جالندھر: نریش گجرال بمقابلہ رانا گرجیت سنگھ ایک اور قدرے دلچسپ مقابلہ جالندھر میں ہے جو سابق وزیراعظم آئی کے گجرال کے بیٹے اور اکالی دل اور بی جے پی کے امیدوار نریش گجرال اور کانگریس کے امیدوار رانا گرجیت سنگھ کے درمیان ہے۔ جالندھر جاٹ سکھوں کا مرکز اور اکالیوں کا گڑھ مانا جاتا ہے جہاں آئی کے گجرال کے خاندان کا خاصا اثر و رسوخ ہے۔ تاہم اس بار یہاں مخالف امیدوار نے زوردار مہم چلا کر اس بظاہر یکطرفہ مقابلہ کو اپنے حریف کے لیے خاصا مشکل بنادیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||